ادا جعفری

ادا جعفری

ادا جعفری: اردو شاعری کی پہلی معتبر خاتون آواز

اردو ادب کی تاریخ میں ادا جعفری کا نام ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں اردو کی پہلی 'صاحبِ دیوان' شاعرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے مردوں کے غلبے والے ادبی معاشرے میں اپنی نسائی حسیت اور منفرد لہجے سے اپنی پہچان بنائی۔

پیدائش اور پس منظر

ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام عزیز جہاں تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں شعری سفر کا آغاز کیا جب خواتین کے لیے ادبی دنیا میں جگہ بنانا نہایت کٹھن تھا۔ ان کی شادی مشہور بیوروکریٹ اور ادیب نور الحسن جعفری سے ہوئی، جنہوں نے ان کے ادبی سفر میں بھرپور تعاون کیا۔

ادبی مقام اور اعزازات

ادا جعفری کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور سماجی رویوں کا گہرا مطالعہ ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد بڑے اعزازات سے نوازا گیا:

  • آدم جی ادبی انعام: 1968ء میں ان کے شعری مجموعے "شہرِ درد" کو اس وقت کے سب سے معتبر 'آدم جی ادبی انعام' سے نوازا گیا۔
  • تمغہ امتیاز: حکومتِ پاکستان نے 1991ء میں ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز عطا کیا۔
  • اعلیٰ اعزازات: انہیں بعد ازاں 'کمالِ فن ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا جو ان کی فنی عظمت کا اعتراف ہے۔

خودنوشت اور شعری مجموعے

ان کی خودنوشت سوانح عمری "جو رہی سو بے خبری رہی" (1995ء) اردو ادب کی بہترین آپ بیتیوں میں شمار کی جاتی ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی اور عہد کی تصویر کشی کی ہے۔ ان کے اہم شعری مجموعوں میں 'میں ساز ڈھونڈتی رہی'، 'شہرِ درد'، 'غزالاں تم تو واقف ہو' اور 'سازِ سخن' شامل ہیں۔

وفات

اردو ادب کی یہ عظیم محسنہ 12 مارچ 2015ء کو کراچی میں وفات پا گئیں۔ ان کی وفات سے اردو شاعری کا وہ باب بند ہو گیا جس نے خواتین کے لیے ادب کے نئے راستے کھولے تھے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد