اسرار الحق مجازؔ: اردو شاعری کا 'کیٹس' اور رومانوی انقلاب کا نقیب
اردو شاعری کے افق پر اسرار الحق مجازؔ ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند ابھرے جنہوں نے اپنی سحر انگیز غنائیت اور جذباتی گہرائی سے لاکھوں دلوں کو مسخر کیا۔ انہیں "اردو کا کیٹس" کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے کلام میں حسن، رومان اور انقلاب کا ایک ایسا سنگم ملتا ہے جو اردو ادب میں منفرد ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
مجازؔ 19 اکتوبر 1911ء کو اتر پردیش کے قصبے ردولی (ضلع بارہ بنکی) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا، مشہور شاعر جذبیؔ ان کے قریبی عزیز تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی شخصیت اور شاعری نے وہ نکھار پایا جس نے انہیں علی گڑھ کا 'شاعرِ بے بدل' بنا دیا۔
شعری خصوصیات اور اسلوب
مجازؔ کی شاعری اردو میں غنائی شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ ان کے کلام کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- موسیقیت اور نغمگی: جیسا کہ آپ کی سائٹ پر ذکر ہے، ان کے کلام میں ایک عجیب موسیقیت ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی نظمیں پڑھتے ہوئے ایک مترنم لہر کا احساس ہوتا ہے۔
- رومانوی اور انقلابی آہنگ: وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ ان کی نظموں میں جہاں ایک طرف حسن پرستی اور عاشقانہ مزاج جھلکتا ہے، وہیں دوسری طرف "آوارہ" جیسی نظموں میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک تڑپ بھی نظر آتی ہے۔
- نئی نسل کے ترجمان: علی گڑھ کے طالبِ علموں اور نوجوانوں میں وہ اپنے دور کے سب سے مقبول شاعر تھے۔ ان کا لکھا ہوا 'علی گڑھ ترانہ' آج بھی وہاں کی فضاؤں میں گونجتا ہے۔
ادبی ورثہ: "آہنگ"
مجازؔ کا شعری مجموعہ "آہنگ" اردو ادب کی تاریخ میں ایک کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ایک مجموعے نے انہیں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچا دیا جہاں بہت کم شعراء پہنچ پاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں دہلی اور لکھنؤ کی تہذیب کا رچاؤ بھی ہے اور جدید عہد کے تغیرات کا شعور بھی۔
وفات
اردو شاعری کا یہ حسن پرست اور باغی شاعر 5 دسمبر 1955ء کو بہت کم عمری میں لکھنؤ میں انتقال کر گیا۔ ان کی موت اردو ادب کے لیے ایک ایسا خلا چھوڑ گئی جسے کبھی پُر نہیں کیا جا سکا۔