اکبر معصوم

اکبر معصوم

اکبر معصوم: غزل کے منظر نامے پر ایک منفرد اور دھیما لہجہ

اردو غزل کے معاصر شعراء میں اکبر معصوم کا نام ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر ابھرا جس نے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدید حسیت کو نہایت سلیقے سے برتا۔ ان کی شاعری میں زندگی کے سفر، تنہائی اور انسانی رویوں کا گہرا ادراک ملتا ہے۔

ادبی سفر اور شعری مجموعے

اکبر معصوم کی ادبی شناخت کا آغاز ان کے پہلے شعری مجموعے سے ہوا، جس نے بہت جلد انہیں معتبر شعراء کی صف میں شامل کر دیا۔ ان کی شعری کائنات تین اہم کتابوں پر مشتمل ہے:

  • اور کہاں تک جانا ہے: یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا جو سن 2000ء کے قریب شائع ہوا۔ اس کتاب نے ادبی حلقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور یہی ان کی مستقل پہچان بنا۔
  • بے ساختہ: طویل انتظار کے بعد، 2018ء میں ان کا دوسرا مجموعہ کلام منظرِ عام پر آیا، جس میں ان کے فنی ارتقاء کے واضح نقش نظر آتے ہیں۔
  • نیندر پچھلے پہر دی: اکبر معصوم نے اپنی مادری زبان میں بھی تخلیقِ فن کا حق ادا کیا اور پنجابی شاعری کا یہ خوبصورت مجموعہ پیش کیا۔

ہمہ جہت شخصیت: ترجمہ نگاری اور مصوری

اکبر معصوم کی تخلیقی صلاحیتیں صرف شاعری تک محدود نہ تھیں۔ ان کا تعلق سکھر (سندھ) سے ہونے کی بنا پر انہیں سندھی زبان و ادب سے گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے ایک سندھی ناول کا اردو ترجمہ کر کے دو زبانوں کے درمیان ادبی پل کا کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ ایک حساس مصور بھی تھے؛ ان کا پینٹنگ کا شوق ان کی شاعری کے امیجز (Images) میں بھی رنگ بھرتا دکھائی دیتا ہے۔

فنی خصوصیات

ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کا دھیما پن اور سوچ کا وہ زاویہ ہے جو قاری کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ لفظوں کے اسراف کے بجائے معنی کی گہرائی پر توجہ دیتے تھے۔ ان کے ہاں زندگی کے سفر کا استعارہ "اور کہاں تک جانا ہے" کی صورت میں بار بار ابھرتا ہے۔

وفات

اردو اور پنجابی کا یہ خاموش طبع اور قد آور شاعر 9 دسمبر 2023ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ ان کی وفات سے اردو غزل ایک سچے اور کھرے لہجے سے محروم ہو گئی۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد