آنس معین

آنس معین

آنس معین: اردو شاعری کا وہ ستارہ جو جلد بجھ گیا

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ ایسے نام ہیں جنہوں نے بہت مختصر وقت میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور پھر اچانک منظرِ عام سے اوجھل ہو گئے۔ آنس معین کا شمار بھی ایسے ہی چند متاثر کن اور منفرد شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں اردو غزل کو ایک نیا اور جدید ذائقہ عطا کیا۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

آنس معین 29 نومبر 1960ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد، فخر الحق نوری، خود بھی صاحبِ علم شخصیت تھے۔ آنس نے ابتدائی تعلیم کے بعد بینکاری (Banking) کے شعبے سے وابستگی اختیار کی، لیکن ان کی اصل پہچان ان کا وہ تخلیقی جوہر تھا جو ان کی شاعری کی صورت میں سامنے آیا۔

شعری سفر اور تخلیقی ارتقاء

انہوں نے 1977ء میں باقاعدہ طور پر شعری دنیا میں قدم رکھا۔ یہ وہ دور تھا جب اردو غزل نئے تجربات سے گزر رہی تھی۔ آنس معین نے قدیم روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بھی اپنے لیے ایک ایسا راستہ چنا جو فکری اور فنی اعتبار سے جدید تھا۔ ان کی شاعری میں تنہائی، کائنات کی وسعتوں کا کرب، اور وجودی لایعنیت کا گہرا احساس ملتا ہے۔

ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • علامت نگاری: وہ اپنی بات براہِ راست کہنے کے بجائے علامتوں اور استعاروں کے پیرائے میں کہنا پسند کرتے تھے۔
  • کائناتی تصور: ان کے کلام میں 'خلا'، 'ستارے' اور 'کائناتی تنہائی' کے موضوعات کثرت سے ملتے ہیں۔
  • منفرد لب و لہجہ: ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کا سوز اور دھیما پن پایا جاتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

وفات اور ادبی ورثہ

آنس معین کی زندگی کا چراغ بہت جلد گل ہو گیا۔ انہوں نے 5 فروری 1986ء کو ملتان میں محض 26 سال کی عمر میں خودکشی کر لی۔ ان کی وفات کے بعد ان کا شعری مجموعہ "فالِ نیک" شائع ہوا، جس نے انہیں اردو کے اہم جدید شعراء کی صف میں شامل کر دیا۔ ان کی شاعری آج بھی سنجیدہ ادبی حلقوں اور نوجوان نسل میں یکساں مقبول ہے۔

عجب طرح کی مروت ہے اس زمانے میں
کہ لوگ ہاتھ ملاتے ہیں آستیں دیکھ کر

میں اس لیے بھی ستاروں سے دور رہتا ہوں
کہ ٹوٹتے ہوئے دیکھوں گا تو دکھ ہو گا