بیان میرٹھی: جدید و قدیم کا حسین سنگم اور مصلحِ سخن
اردو شاعری کے افق پر بیان میرٹھی (۱۸۵۰ء – ۱۹۰۰ء) ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کا کلام روایت کی پاسداری اور جدیدیت کی تازگی کا بہترین امتزاج ہے۔ وہ ایک استاد شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین صحافی اور انشا پرداز بھی تھے۔
خاندان اور پیدائش
بیان میرٹھی کا اصل نام سید فضلِ حق تھا۔ وہ ۱۸۵۰ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد ساداتِ جارچہ (ضلع بلند شہر) سے تھے، جنہیں غیاث الدین بلبن کے عہد میں جاگیریں عطا کی گئی تھیں۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد، سیاسی مصائب سے بچنے کے لیے ان کے والد سید گوہر علی (جو میر صاحب کے نام سے مشہور تھے) میرٹھ منتقل ہو گئے اور محلہ کرم علی میں سکونت اختیار کی۔ بیان کی والدہ 'جہاں بانو' ایک علمی و ادبی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
شخصیت اور طرزِ زندگی
بیان میرٹھی اپنی شکل و صورت کے اعتبار سے نہایت حسین و جمیل تھے، اسی لیے بچپن میں انہیں لوگ محبت سے "لالہ" پکارتے تھے۔ ان کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
- تجرد کی زندگی: انہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی اور اپنی پوری زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
- آزاد منش: وہ طبعاً حد درجہ آزادی پسند، صلح کل اور ظریف الطبع تھے۔ لباس اور خوراک میں تکلفات سے کوسوں دور رہتے تھے۔
- حاضر جوابی: ان کی ظرافت اور حاضر جوابی کے کئی لطائف مشہور ہیں۔ ایک بار کسی نے شام کے وقت ان کے گھر پر دستک دی اور نام "آفتاب" بتایا، تو بیان نے برجستہ کہا: "مغرب کے بعد آفتاب کیسا؟"
ادبی مقام اور شعری خصوصیات
بیان میرٹھی کا دور وہ تھا جب ایک طرف ناسخ، غالب، مومن اور داغ کا رنگ عروج پر تھا، اور دوسری طرف حالی، آزاد اور اسماعیل میرٹھی جدید شاعری کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ بیان نے ان دونوں تحریکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا۔
- غزل گوئی: ان کی غزلوں میں داغ دہلوی کی شگفتگی اور غالب و مومن کا رنگ جھلکتا ہے۔
- جدید نظمیں: وہ نیچرل، قومی اور اخلاقی شاعری میں حالی اور اسماعیل میرٹھی کے ہم پلہ نظر آتے ہیں۔ ان کی نظمیں بے حد سادہ اور سلیس زبان میں ہیں۔
- مذہبی کلام: ان کی نعتیہ شاعری کے مجموعے 'عطرِ مجموعہ نعت' اور 'قندیلِ حرم' ان کی عقیدت کے گواہ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سلام اور مراثی بھی تحریر کیے۔
تصانیف اور صحافت
بیان میرٹھی ایک متحرک صحافی بھی تھے۔ انہوں نے مختلف رسائل کے ذریعے اردو کی ترویج کی۔ ان کی اہم تصانیف میں ان کا دیوان (جس میں غزلیں، قصائد، اور رباعیات شامل ہیں)، 'نقشِ بیان' اور 'رنگِ شہادت' نمایاں ہیں۔ ان کی مثنوی 'حواسِ خمسہ' بھی ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وفات
اردو زبان و بیان کا یہ روشن ستارہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۰ء کو میرٹھ میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر ان کے شاگردوں اور ہم عصروں نے انہیں "خسروِ کشورِ غزل خوانی" اور "شاعرِ بے عدیل" جیسے القابات سے یاد کیا۔