بیخود بدایونیؔ: دبستانِ داغ کے امین اور اردو غزل کے معتبر استاد
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
بیخود بدایونیؔ کا اصل نام سید محمد احمد تھا۔ وہ ستمبر ۱۸۵۷ء میں بدایوں (اتر پردیش) کے ایک معزز سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید ضامن علی اپنے عہد کے صاحبِ علم بزرگ تھے۔ بیخود نے روایتی عربی اور فارسی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعری سفر کا آغاز کیا اور جلد ہی ان کی شہرت بدایوں سے نکل کر دور دور تک پھیل گئی۔
شاگردیِ داغ اور ادبی مقام
بیخود بدایونیؔ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ حضرت داغ دہلوی کے ان چند شاگردوں میں سے تھے جن پر خود استاد کو بھی ناز تھا۔
- استادِ وقت: انہوں نے اپنی پوری زندگی شاعری کی نوک پلک سنوارنے میں گزری۔ ان کا کلام دہلی کی ٹھیٹ زبان اور لکھنوی لطافت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
- تلامذہ کی تربیت: بیخود بدایونیؔ خود ایک عظیم استاد تھے اور ان کے شاگردوں کا دائرہ برصغیر کے طول و عرض میں پھیلا ہوا تھا۔ ان کی اصلاحِ سخن کو ادبی حلقوں میں سند تسلیم کیا جاتا تھا۔
- رنگِ تغزل: ان کی غزلوں میں معاملہ بندی، شوخی اور جذبات کی سادگی نمایاں ہے۔ وہ پیچیدہ فلسفوں کے بجائے انسانی دل کی دھڑکنوں کو زبان دینے کے ماہر تھے۔
تصانیف
ان کا شعری سرمایہ اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کے دو اہم مجموعہ ہائے کلام مشہور ہیں:
- مرآۃ الغیب: ان کی غزلوں اور قصائد کا پہلا مجموعہ۔
- نشاطِ امید: ان کا دوسرا دیوان جو ان کے فنی ارتقاء کا آئینہ دار ہے۔
وفات
اردو غزل کا یہ درخشندہ ستارہ ۱۰ جولائی ۱۹۱۲ء کو بدایوں میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر علمی و ادبی حلقوں میں گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا گیا، کیونکہ ان کی رحلت سے دبستانِ داغ کا ایک بہت بڑا سہارا ختم ہو گیا تھا۔