سارا شگفتہ

سارا شگفتہ: دکھوں کی راکھ سے جنم لینے والی انوکھی نظم

اردو اور پنجابی ادب میں سارا شگفتہ ایک ایسا نام ہے جس نے روایتی سماج کے جبر اور اپنی ذات کے کرب کو نثری نظم کے اچھوتے اور بے باک استعاروں میں ڈھال دیا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی روح کی پکار ہے جو زندگی بھر امن اور شناخت کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔

پیدائش اور کٹھن حالات

سارا شگفتہ 31 اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندانی پس منظر نہایت غریب اور ان پڑھ تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی تمام تر تڑپ کے باوجود میٹرک سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔ ان کی زندگی خانگی الجھنوں، سوتیلی ماں کے سلوک اور چار ناکام شادیوں کے بوجھ تلے دبی رہی، جس نے انہیں شدید ذہنی اذیت اور تنہائی سے دوچار کیا۔

شعری اسلوب اور تخلیقی سفر

سارا نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اپنی تخلیقی شناخت بنائی۔ ان کا شعری اسلوب اپنی مثال آپ تھا:

  • نثری نظم کی انفرادیت: انہوں نے نثری نظم کو اپنا میڈیم بنایا اور اس میں ایسے استعارے تراشے جو اس سے قبل اردو ادب میں ناپید تھے۔
  • موضوعات: ان کے ہاں عورت کی مظلومیت، سماجی ناانصافی، موت کی تمنا اور ذات کی گمشدگی کے موضوعات نہایت شدت کے ساتھ ملتے ہیں۔
  • مقبولیت: ان کے شعری مجموعوں میں اردو کے مجموعے 'آنکھیں' اور 'نیند کا رنگ' جبکہ پنجابی میں 'بلدے اکھر' اور 'لکن میٹی' نمایاں ہیں۔

المیہ موت اور ادبی بازگشت

مسلسل ذہنی کرب اور ناکام زندگی کے بوجھ نے انہیں خودکشی کی طرف مائل کیا۔ بالآخر 4 جون 1984ء کو کراچی میں ایک ٹرین کے نیچے آکر انہوں نے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ ان کی موت نے ادبی دنیا میں ایک تلاطم برپا کر دیا اور ان کے فن پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادبی ورثہ اور اثرات

ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت اور فن پر کئی اہم کام ہوئے:

  • مشہور ادیبہ امرتا پریتم نے ان کی زندگی پر 'ایک تھی سارہ' نامی کتاب لکھی۔
  • انور سن رائے نے 'ذلتوں کے اسیر' کے عنوان سے ان کے حالاتِ زندگی قلمبند کیے۔
  • پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کی زندگی پر مبنی ڈرامہ سیریل 'آسمان تک دیوار' پیش کیا۔

تحریر و ترتیب: یاور ماجد