زہرا نگاہ

محترمہ زہرا نگاہ: اردو ادب کا معتبر نسائی لہجہ اور روایت کی پاسدار

اردو شاعری کے موجودہ منظر نامے پر زہرا نگاہ ایک ایسی توانا اور معتبر آواز ہیں جنہوں نے صنفِ نازک کے جذبات، سماجی مسائل اور گھریلو زندگی کے تجربات کو بڑی فنکاری اور سچائی کے ساتھ قلمبند کیا۔ ان کا اسلوب جدیدیت کے شور اور رومانویت کی لفاظی سے پاک، نہایت سادہ اور بلیغ ہے۔

پیدائش اور علمی خاندان

زہرا نگاہ 14 مئی 1937ء کو حیدرآباد دکن (برطانوی ہندوستان) کے ایک نہایت علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہے۔ ان کے والد قمر مقصود بدایوں کے معززین میں سے تھے۔ ان کا پورا خاندان علم و ہنر کا گہوارہ ہے؛ مشہور ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا ان کی بڑی بہن اور ہر دلعزیز ادیب و فنکار انور مقصود ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گئیں اور یہیں تعلیم مکمل کی۔

ابتدائی شعری سفر اور جگرؔ کی پارکھ نظر

شعر و سخن کا ذوق انہیں ورثے میں ملا۔ محض 11 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی نظم "گڑیا گڈے کی شادی" لکھی۔ دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنا کلام اصلاح کے لیے رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کو دکھایا، تو جگر صاحب نے یہ کہہ کر اصلاح دینے سے انکار کر دیا کہ "تمہارا ذوقِ مستحسن خود ہی تمہارے کلام کی اصلاح کر دے گا"۔ یہ ان کی فطری صلاحیتوں کا بہت بڑا اعتراف تھا۔

شعری اسلوب اور موضوعات

زہرا نگاہ کی شاعری میں زندگی کے روزمرہ معاملات اور انسانی رشتوں کی نزاکتیں نمایاں ہیں:

  • گھریلو زندگی کی عکاسی: ان کی نظمیں 'ملائم گرم سمجھوتے کی چادر' اور 'نیا گھر' عورت کے داخلی دکھوں اور سمجھوتوں کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں۔
  • سماجی و سیاسی شعور: 'قصیدہ بہار' اور 'علی اور نعمان کے نام' جیسی تخلیقات میں انہوں نے سیاسی واقعات اور انسانی تقدیر کے موضوعات کو بڑی ہمدردی سے برتا ہے۔
  • سادگی و بلاغت: ان کا کلام روایتی آرائش پسندی کے بجائے سادگی میں حسن ڈھونڈتا ہے۔ ان کی نظم 'شام کا پہلا تارا' اس فن کا بہترین نمونہ ہے۔

تصانیف اور اعزازات

ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے شامل ہیں:

  • شام کا پہلا تارا
  • ورق
  • فراق
  • مجموعہ کلام (کلیات)

حکومتِ پاکستان نے ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا۔

ادبی مقام

زہرا نگاہ نے ثابت کیا کہ عورت کے تجربات کو بیان کرنے کے لیے بلند آہنگ نعرہ بازی کی ضرورت نہیں، بلکہ دھیمے لہجے میں کہی گئی سچی بات زیادہ گہرا اثر رکھتی ہے۔ وہ آج بھی اردو مشاعروں کی آبرو اور نئی نسل کی شاعرات کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد