سدرشن فاکر

سدرشن فاکر: سادگی اور نوٹسٹیلجیا کا للازوال شاعر

اردو ادب اور موسیقی کی دنیا میں سدرشن فاکر (1934ء – 2008ء) ایک ایسے شاعر کے طور پر ابھرا جس کے کلام نے لفظوں اور آوازوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم کر دیا۔ وہ مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے انسانی جذبوں کو نہایت سادہ مگر پُر اثر پیراہن عطا کیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

سدرشن فاکر 1934ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم جالندھر سے حاصل کی۔ علم و ادب سے گہری وابستگی کی بنا پر وہ آل انڈیا ریڈیو سے منسلک رہے، جہاں انہیں اپنے فن کو نکھارنے اور عوامی ذوق کو سمجھنے کا بھرپور موقع میسر آیا۔

بیگم اختر اور جگجیت سنگھ کے پسندیدہ شاعر

سدرشن فاکر کی شاعری کی سب سے بڑی سند یہ ہے کہ وہ ملکۂ غزل بیگم اختر کے پسندیدہ ترین شعراء میں شامل تھے۔ بیگم اختر نے ان کی کئی غزلیں گا کر انہیں امر کر دیا۔ بعد ازاں، جدید دور میں جگجیت سنگھ نے ان کے کلام کو اپنی آواز کے ذریعے گھر گھر پہنچا دیا۔

شاہکار تخلیقات اور عالمی شہرت

سدرشن فاکر کی تخلیقات میں وہ نغمگی ہے جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کے چند نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:

  • یہ دولت بھی لے لو: ان کا عالمی شہرت یافتہ گیت "یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو" بچپن کی یادوں اور ماضی کی معصومیت کا وہ شاہکار نوحہ ہے جسے سن کر ہر آنکھ نم ہو جاتی ہے۔
  • ہم سب بھارتیہ ہیں: ان کا یہ قومی گیت اتحاد اور یکجہتی کی علامت بن چکا ہے اور بھارت بھر کے اسکولوں اور تقاریب میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔
  • فلم فیئر اعزاز: فاکر صاحب کو یہ انوکھا اعزاز حاصل ہے کہ ان کے پہلے ہی فلمی گیت کو فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

فنی اسلوب

فاکر کی شاعری پیچیدہ استعاروں کے بجائے دل سے نکلنے والی سادہ بات پر مبنی ہے۔ ان کے ہاں محبت، جدائی اور گزرے ہوئے دنوں کی تڑپ اتنی شدت سے ملتی ہے کہ سننے والا خود کو اس کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔

وفات اور ادبی ورثہ

اردو کا یہ نغمہ گو شاعر 2008ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ سدرشن فاکر اگرچہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کے لکھے ہوئے گیت اور غزلیں آج بھی موسیقی کی محفلوں کی جان ہیں۔ :


تحریر و ترتیب: یاور ماجد