ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
اردو شاعری کے جدید منظر نامے پر ضیا جالندھری (اصل نام: ضیاء الدین احمد) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے نظم کے ڈھانچے میں نئے تجربات کیے اور اسے جذباتی گہرائی عطا کی۔ وہ حلقہ اربابِ ذوق کی تحریک کے اہم ترین ارکان میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کی شاعری جدید اردو نظم کے ارتقاء میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
پیدائش اور تعلیمی پس منظر
ضیا جالندھری 2 فروری 1923ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جالندھر میں ہی حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تعلیمی پس منظر نے انہیں مغربی ادب اور عالمی شعری رجحانات سے روشناس کرایا، جس کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔
عملی زندگی اور انتظامی خدمات
ان کی عملی زندگی ایک کامیاب سرکاری افسر کی حیثیت سے گزری۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی مصروفیات کے باوجود ان کا تخلیقی سفر کبھی متاثر نہیں ہوا، بلکہ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بھی ادبی اداروں کی بہتری کے لیے استعمال کیا۔
ادبی خدمات اور فنی سفر
ضیا جالندھری نے غزلیں بھی کہیں، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی نظمیں ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- حلقہ اربابِ ذوق سے وابستگی: وہ اس تحریک کے نظریات کے علمبردار تھے اور انہوں نے شاعری میں مواد کے ساتھ ساتھ ہیئت کے تجربات پر بھی زور دیا۔
- منفرد اسلوب: ان کی شاعری میں کلاسیکی رچاؤ اور جدید شعور کا ایک خوبصورت توازن ملتا ہے۔ وہ علامتی اور استعاراتی انداز میں اپنی بات کہنے کے ماہر تھے۔
- فکری پہلو: ان کے ہاں انسانی وجود کی تنہائی، کائنات کے اسرار اور سماجی تبدیلیوں کے موضوعات بڑی سنجیدگی سے ملتے ہیں۔
شعری مجموعے
ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں:
- سرِ شام: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے انہیں جدید شعراء کی صف میں نمایاں کیا۔
- نارسائی: ان کے پختہ شعری تجربات کا آئینہ دار۔
- خوابِ ناتمام: ان کی فکری بلندی کا ثبوت۔
- دمِ معکوس: ان کے آخری دور کا کلام۔
وفات
اردو نظم کا یہ قد آور شاعر 13 مارچ 2012ء کو اسلام آباد میں وفات پا گیا۔ ضیا جالندھری نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی خدمت اور نظم کے فروغ کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کی وفات سے اردو ادب ایک نہایت شائستہ اور صاحبِ فکر ادیب سے محروم ہو گیا۔