ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
اردو شاعری کے افق پر ظہیر کاشمیری (اصل نام: پیرزادہ غلام دستگیر) ایک ایسی قد آور شخصیت تھے جن کی زندگی جدوجہد اور نظریاتی وابستگی سے عبارت تھی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو محض جمالیاتی تسکین کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے سماجی تبدیلی کا ہتھیار تصور کیا۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
ظہیر کاشمیری 21 اگست 1919ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد پیرزادہ غلام محی الدین کاشمیری ایک معزز شخصیت تھے۔ ظہیر کاشمیری نے اپنی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی اور بعد ازاں ایم اے (اردو) کی ڈگری مکمل کی۔ ان کے خاندانی ماحول نے ان کی شخصیت میں علمی متانت پیدا کی، جبکہ معاصر حالات نے انہیں سیاسی شعور عطا کیا۔
ادبی سفر اور تحریک سے وابستگی
انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز ایک ایسے دور میں کیا جب برصغیر میں آزادی کی تحریکیں عروج پر تھیں۔ ظہیر کاشمیری بہت جلد ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن رہے۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک گہرے مفکر اور نقاد بھی تھے جن کا مطالعہ نہایت وسیع تھا۔
عملی زندگی اور صحافت
ظہیر کاشمیری کی عملی زندگی کثیر الجہتی تھی۔ وہ طویل عرصے تک صحافت سے وابستہ رہے اور مختلف اخبارات و جرائد کی ادارت کی۔ انہوں نے فلمی دنیا میں بھی طبع آزمائی کی اور بطور اسکرپٹ رائٹر اور نغمہ نگار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اپنی انقلابی سوچ کی پاداش میں انہیں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں، مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔
فنی خصوصیات اور شعری مجموعے
ظہیر کاشمیری کی شاعری میں کلاسیکی رچاؤ اور انقلابی آہنگ کا ایک منفرد امتزاج ملتا ہے۔ ان کی غزلوں میں جہاں تغزل کی چاشنی ہے، وہیں ان کی نظمیں سماجی شعور اور عوامی دکھوں کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- عظمتِ آدم: ان کا معتبر شعری مجموعہ جو ان کے فکری ارتقاء کا آئینہ دار ہے۔
- تغزل: غزلوں پر مشتمل مجموعہ جس میں روایتی اور جدید رنگ یکجا ہیں۔
- چراغِ آخرِ شب: ان کے آخری دور کا کلام۔
- ادب کے مادی نظریات: ان کی تنقیدی بصیرت کا شاہکار مجموعہ۔
وفات اور علمی ورثہ
اردو ادب کا یہ مجاہد شاعر 12 دسمبر 1994ء کو لاہور میں وفات پا گیا۔ ظہیر کاشمیری نے غزل اور نظم دونوں اصناف کو ایک نئی توانائی دی اور ثابت کیا کہ آرٹ اور نظریہ ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار ہو سکتے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا۔