عالم تاب تشنہ

عالم تاب تشنہ

عالم تاب تشنہ: جدید غزل کا معتبر لہجہ اور ماہرِ ابلاغ و فن

اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر عالم تاب تشنہ (اصل نام: سید عالم تاب علی) ایک ایسی علمی اور ادبی شخصیت تھے جن کے ہاں پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور شعری لطافت کا ایک حسین سنگم ملتا ہے۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہرِ فن مترجم اور اعلیٰ پائے کے منتظم بھی تھے۔

پیدائش اور تعلیمی سفر

عالم تاب تشنہ 20 اپریل 1935ء کو میرٹھ (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم میرٹھ سے ہی مکمل کی اور وہاں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ شعری ذوق انہیں اوائلِ عمری سے ہی تھا، مگر باقاعدہ شاعری کا آغاز انہوں نے 1950ء کی دہائی میں کیا، جس نے جلد ہی انہیں ادبی حلقوں میں متعارف کروا دیا۔

ہجرت اور پیشہ ورانہ کامیابیاں

اپریل 1959ء میں وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی نہایت شاندار رہی:

  • انتظامی خدمات: مئی 1959ء میں وہ لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ میں بطور چیف اکاؤنٹنٹ فائز ہوئے۔
  • اعلیٰ تربیت: 1967ء میں وہ تربیت کے لیے امریکہ گئے، جہاں سے انہوں نے او اینڈ ایم میں ڈپلوما حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کنٹیک یونیورسٹی اور مشین گن یونیورسٹی سے ابلاغ (Communication) کے شعبے میں اسناد حاصل کیں۔
  • اعلیٰ عہدے: وطن واپسی پر وہ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ مقرر ہوئے اور بعد ازاں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ادبی خدمات اور تراجم

عالم تاب تشنہ کی شاعری میں جدید شعور اور کلاسیکی رچاؤ کی آمیزش ملتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ تراجم تک بھی پھیلا ہوا ہے:

  • شعری مجموعے: ان کے شعری مجموعوں میں 'موج موج تشنگی' اور 'آئینے کے اس طرف' نمایاں ہیں، جو ان کے انفرادی رنگِ سخن کی ترجمانی کرتے ہیں۔
  • تراجم: انہوں نے عالمی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کا اہم کام کیا۔ شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے 'مڈ سمر نائٹ ڈریم' کا اردو ترجمہ 'خوابِ نیم شب' ان کا بڑا کارنامہ ہے۔
  • غیر مطبوعہ کام: انہوں نے انگریزی کے عظیم شعراء کیٹس اور شیلے کی نظموں کے ترجمے بھی کیے تھے، جو ان کے وسیع مطالعے اور فنی گرفت کا ثبوت ہیں۔

وفات

اردو کا یہ صاحبِ علم شاعر اور دانشور 11 مئی 1991ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ عالم تاب تشنہ نے اپنی زندگی کے تجربات اور عالمی ادب کے مطالعے سے اردو غزل کو جو وسعت عطا کی، وہ انہیں ادبی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد