علی سردار جعفری: ادبِ عالیہ کے انقلابی نقیب اور سفیرِ امن
اردو ادب کی تاریخ میں علی سردار جعفری کا نام ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر ابھرا جس نے اپنی شاعری کو نظریاتی استحکام اور عوامی جدوجہد سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ترقی پسند تحریک کے روحِ رواں تھے اور ان کی تحریریں ہمیشہ مظلوم طبقے کی حمایت اور عالمی امن کی پکار بن کر سامنے آئیں۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم
علی سردار جعفری 29 نومبر 1913ء کو اتر پردیش کے قصبے بلرام پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر ہوئی، جس کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے۔ علی گڑھ کی علمی اور سیاسی فضا نے ان کے انقلابی شعور کو جلا بخشی۔ بعد ازاں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم جاری رکھی، جہاں وہ طالب علموں کی تحریکوں میں سرگرم رہے اور اسی پاداش میں انہیں جیل بھی جانا پڑا۔
ترقی پسند تحریک اور ادبی خدمات
سردار جعفری نے اپنا تخلیقی سفر ایک ایسے دور میں شروع کیا جب پوری دنیا بدل رہی تھی۔ انہوں نے غزل کے روایتی ڈھانچے سے ہٹ کر نظم کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- نظریاتی وابستگی: وہ مارکسی نظریات سے متاثر تھے اور ان کی نظموں میں محنت کش طبقے کے دکھوں اور خوابوں کی عکاسی ملتی ہے۔
- امن کا پرچار: وہ پاک و ہند کے درمیان دوستی اور عالمی امن کے بہت بڑے داعی تھے۔ ان کی مشہور نظم 'کون دشمن ہے' اس حوالے سے ایک شاہکار تخلیق مانی جاتی ہے۔
- تنقیدی شعور: شاعری کے علاوہ انہوں نے 'لکھنؤ کی پانچ راتیں' اور 'ترقی پسند ادب' جیسی کتابیں لکھ کر اردو تنقید کو نئے زاویے دیے۔
پیشہ ورانہ زندگی اور صحافت
انہوں نے مختلف ادبی رسائل کی ادارت کی، جن میں 'نیا ادب' نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے دستاویزی فلموں اور ٹیلی ویژن سیریلز کے ذریعے بھی اردو ادب کی خدمت کی، جن میں 'کہکشاں' نامی سیریز بہت مقبول ہوئی جس میں انہوں نے اردو کے عظیم شعراء کی زندگیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
شعری مجموعے اور تصانیف
ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں:
- پرواز: ان کا پہلا شعری مجموعہ۔
- نئی دنیا کو سلام: ایک طویل اور پرجوش انقلابی نظم۔
- خون کی لکیر اور پتھر کی دیوار: ان کے فکری ارتقاء کے آئینہ دار مجموعے۔
- ایشیا جاگ اٹھا اور پیرہنِ شرر: ان کی سیاسی اور سماجی بصیرت کے شاہکار۔
اعزازات اور وفات
حکومتِ ہند نے ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1997ء میں ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز 'گیان پیٹھ ایوارڈ' سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں پدم شری کے اعزاز سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اردو ادب کا یہ قد آور سورج 1 اگست 2000ء کو ممبئی میں غروب ہو گیا۔ علی سردار جعفری نے اپنی شاعری سے جو روشنی پھیلائی، وہ آج بھی امن اور انصاف کے راہیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔