غلام محمد قاصرؔ: جدید اردو غزل کا ایک منفرد اور فلسفیانہ لہجہ
اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر غلام محمد قاصرؔ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے نئے استعاروں اور اچھوتی تراکیب سے مالا مال کیا۔ ان کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے لفظ کو ایک نئی حرمت دی اور غزل کے کینوس پر زندگی کے بدلتے ہوئے رنگوں کو بڑی مہارت سے بکھیر دیا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
غلام محمد قاصرؔ 4 ستمبر 1944ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قصبے پہاڑ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں علم و ادب کی قدر کی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کی اور بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
پیشہ ورانہ زندگی اور تدریس
ان کی عملی زندگی کا بڑا حصہ تدریس کے شعبے سے وابستگی میں گزرا۔ وہ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں مختلف تعلیمی اداروں میں بطور استاد اور پرنسپل خدمات انجام دیتے رہے۔ تدریس کے ساتھ ان کا لگاؤ محض پیشہ ورانہ نہیں تھا بلکہ وہ اپنے طالب علموں کی فکری تربیت بھی کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سرحد ٹیکسٹ بک بورڈ سے بھی وابستہ رہے جہاں انہوں نے تعلیمی نصاب کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
ادبی خدمات اور شعری اسلوب
غلام محمد قاصرؔ کی اصل پہچان ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- منفرد لہجہ: ان کے ہاں ایک خاص قسم کی تازگی اور شگفتگی ہے جو قاری کو چونکا دیتی ہے۔ وہ روزمرہ کے الفاظ سے نہایت گہرے معانی کشید کرنے کے ماہر تھے۔
- فلسفیانہ گہرائی: ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں ہے بلکہ اس میں وجود اور کائنات کے حوالے سے گہرے سوالات ملتے ہیں۔
- نئے استعارے: انہوں نے غزل کو پرانے اور فرسودہ استعاروں سے نکال کر نئے فنی تجربات سے آشنا کیا۔ ان کی شاعری میں زندگی کی تلخیوں اور خوابوں کا ایک خوبصورت توازن ملتا ہے۔
شعری مجموعے اور تصانیف
ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ مانے جاتے ہیں:
- تسلسل: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے انہیں ادبی دنیا میں ایک مستند شاعر کے طور پر متعارف کرایا۔
- آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے: ان کے فکری ارتقاء اور فنی پختگی کا شاہکار مجموعہ۔
- دریائے گمان: ان کی آخری دور کی تخلیقات جو ان کے گہرے مشاہدے کی ترجمانی کرتی ہیں۔
اعزازات اور وفات
غلام محمد قاصرؔ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از وفات 2006ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا۔ اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 20 فروری 1999ء کو پشاور میں وفات پا گیا۔ ان کی وفات سے اردو ادب ایک نہایت شائستہ اور صاحبِ طرز تخلیق کار سے محروم ہو گیا، مگر ان کی شاعری آج بھی نئی نسل کے شعراء کے لیے مشعلِ راہ ہے۔