فارغ بخاری

فارغ بخاری: خیبر کی وادیوں کا توانا قلم کار اور محقق

اردو اور پشتو ادب کے سنگم پر فارغ بخاری (اصل نام: سید میر احمد شاہ) ایک ایسی عہد ساز شخصیت تھے جن کی خدمات کا دائرہ شاعری، صحافت، تحقیق اور خاکہ نگاری تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں ترقی پسند تحریک کی شمع روشن کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی حقوق اور سماجی عدل کی آواز بلند کی۔

پیدائش اور علمی پس منظر

فارغ بخاری 11 نومبر 1917ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا، جس کی بدولت بچپن سے ہی ان کی طبیعت علم و ادب کی طرف مائل تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھا۔ ان کے مطالعے میں وسعت اور مشاہدے میں گہرائی تھی، جس نے انہیں بہت جلد ایک صاحبِ طرز ادیب بنا دیا۔

ادبی خدمات اور ترقی پسند تحریک

فارغ بخاری نے اپنا ادبی سفر ایک ایسے دور میں شروع کیا جب برصغیر میں آزادی کی تڑپ اور سماجی تبدیلی کی لہریں موجزن تھیں۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے اور پشاور میں اس تحریک کے روحِ رواں رہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اردو اور پشتو کا ملاپ: انہوں نے دونوں زبانوں میں تخلیقی کام کیا اور پشتو ادب کے شاہکاروں کو اردو میں متعارف کرانے کے لیے گراں قدر ترجمے کیے۔
  • خاکہ نگاری: وہ ایک بہترین خاکہ نگار تھے اور ان کے لکھے ہوئے خاکے اپنی حقیقت نگاری اور شگفتگی کی بنا پر اردو ادب کا قیمتی اثاثہ مانے جاتے ہیں۔
  • تحقیق و تدوین: انہوں نے پشتو زبان و ادب کی تاریخ اور لوک ورثے پر نہایت اہم تحقیقی کام کیا، جس سے نئی نسل کے لیے علم کے نئے در وا ہوئے۔

صحافتی زندگی

ادب کے ساتھ ساتھ فارغ بخاری نے صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے مختلف اخبارات اور جرائد کی ادارت کی، جن میں 'سنگِ میل' نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی صحافت ہمیشہ اصولوں اور عوامی مفادات کی ترجمان رہی، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اہم تصانیف

ان کی تخلیقات کی فہرست بہت طویل ہے، جن میں چند نمایاں کتابیں درج ذیل ہیں:

  • زیر و بم اور شیشے کے پیراہن: ان کے شعری مجموعے جو ان کے فکری رچاؤ کی ترجمانی کرتے ہیں۔
  • پشتو لوک گیت: پشتو ثقافت پر ان کا ایک معتبر تحقیقی کام۔
  • آلبم: ان کے لکھے ہوئے خاکوں کا مجموعہ جس نے بہت شہرت حاصل کی۔
  • برِ صغیر کے پشتو ادیب: ایک اہم تذکرہ اور تحقیقی دستاویز۔

وفات اور ادبی مقام

اردو اور پشتو کا یہ مخلص خادم 13 اپریل 1997ء کو پشاور میں وفات پا گیا۔ فارغ بخاری نے اپنی پوری زندگی قلم کی حرمت اور سچائی کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کی وفات سے اردو ادب ایک نہایت شائستہ، محقق اور ہمدرد انسان سے محروم ہو گیا، مگر ان کی کتابیں آج بھی علم و ادب کے راہیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد