احمد راہیؔ: پنجاب کی لوک روایت کا نقیب اور مایہ ناز نغمہ نگار
اردو اور خاص طور پر پنجابی ادب کے افق پر احمد راہیؔ (اصل نام: عبدالحمید) ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہیں جن کی تخلیقی کامرانیوں نے فلم اور ادب دونوں میدانوں کو روشن کیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے تقسیمِ ہند کے المیے کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا اور پنجاب کی رومانوی داستانوں کو ایک نیا رنگ عطا کیا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
احمد راہیؔ 12 نومبر 1923ء کو امرتسر (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی ہوئی جہاں وہ ایم اے او کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران انہیں فیض احمد فیضؔ اور صاحبزادہ محمود الظفر جیسی شخصیات کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے شعری و سیاسی شعور کو جلا بخشی۔ 1947ء میں ہجرت کر کے وہ لاہور آ گئے اور اسی شہر کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔
ادبی خدمات اور 'ترنجن'
احمد راہیؔ کی شہرت کا آغاز ان کے پہلے پنجابی شعری مجموعے 'ترنجن' سے ہوا۔ یہ مجموعہ محض شاعری نہیں بلکہ 1947ء کے فسادات میں پامال ہونے والی انسانیت اور خاص طور پر عورتوں پر ہونے والے مظالم کا ایک دردناک نوحہ ہے۔ اس کتاب نے انہیں جدید پنجابی نظم و غزل کے صفِ اول کے شعراء میں شامل کر دیا۔ ان کے ہاں مٹی کی خوشبو اور لوک گیتوں کا رچاؤ نمایاں ہے۔
فلمی خدمات: کہانی نویسی اور نغمہ نگاری
احمد راہیؔ نے پاکستان کی فلمی صنعت کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ وہ ایک مایہ ناز کہانی نویس اور نغمہ نگار تھے:
- یادگار فلمیں: انہوں نے کئی سپرہٹ فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے جن میں 'مرزا جٹ'، 'ہیر رانجھا'، 'ناجو'، 'گڈو' اور 'اچا شملہ جٹ دا' نمایاں ہیں۔
- نغمہ نگاری: فلم 'ہیر رانجھا' کے گیت آج بھی پنجاب کی ثقافتی پہچان مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے لوک داستانوں کو فلمی قالب میں ڈھالنے کا وہ ہنر دکھایا جو ان کا ہی خاصہ تھا۔
- منفرد اسلوب: ان کے لکھے ہوئے گیتوں میں سادگی، نغمگی اور جذباتی گہرائی پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے نغمات دہائیوں گزرنے کے باوجود آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
اعزازات اور وفات
حکومتِ پاکستان نے ان کی گراں قدر فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد نگار ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ احمد راہیؔ 2 ستمبر 2002ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات سے پنجابی اور اردو ادب ایک ایسے فنکار سے محروم ہو گیا جس نے قلم کو ہمیشہ سچائی اور عوامی جذبات کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا۔