تلوک چند محروم

تلوک چند محرومؔ: فطرت کا شاعر اور اردو ادب کا عظیم معلم

اردو شاعری کی تاریخ میں تلوک چند محرومؔ ایک ایسی معتبر شخصیت ہیں جن کے کلام میں سچائی، سادگی اور گہرا انسانی درد پایا جاتا ہے۔ وہ ان شعراء میں شامل تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں اردو نظم کو نئے موضوعات اور فطرت نگاری کے خوبصورت رنگوں سے آشنا کیا۔ ان کی شاعری امن، اخوت اور حبِ وطنی کا ایک بہترین مرقع ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

تلوک چند محرومؔ یکم جولائی 1887ء کو ضلع میانوالی (موجودہ پاکستان) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن دریائے سندھ کے کنارے فطرت کے حسین مناظر کے درمیان گزرا، جس نے ان کے شعری ذوق کی آبیاری کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم میانوالی سے حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنی ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔

پیشہ ورانہ زندگی اور تدریس

ان کی عملی زندگی کا بڑا حصہ تدریس کے مقدس شعبے سے وابستہ رہا۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں بطور استاد خدمات انجام دیتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت گورنمنٹ کالج کیمبل پور (موجودہ اٹک) میں لکچرر کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی شخصیت میں موجود استادی اور ٹھہراؤ ان کے کلام میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ دہلی منتقل ہو گئے اور وہاں بھی تعلیمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

ادبی خدمات اور شعری خصوصیات

تلوک چند محرومؔ نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی، مگر ان کی اصل پہچان ان کی نظمیں ہیں۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • فطرت نگاری: وہ منظر کشی کے ماہر تھے اور ان کی نظموں میں پہاڑوں، دریاؤں اور دیہی زندگی کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔
  • حبِ وطنی: ان کے کلام میں وطن کی مٹی سے محبت اور قومی یکجہتی کا جذبہ نہایت نمایاں ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی عظمت اور اتحاد پر نہایت خوبصورت نظمیں لکھیں۔
  • بچوں کا ادب: محرومؔ نے بچوں کے لیے نہایت سبق آموز اور سادہ نظمیں لکھیں جو آج بھی درسی کتابوں کا حصہ ہیں۔

شعری مجموعے اور تصانیف

ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں:

  • گنجِ معانی: ان کے ابتدائی کلام کا مجموعہ۔
  • شعلۂ نوا: ان کی فکری پختگی اور فنی عظمت کا شاہکار۔
  • کاروانِ وطن: حبِ وطنی کے موضوع پر ان کی منتخب تخلیقات۔
  • نیرنگِ معانی: ان کے شعری اسلوب کا ایک اور عمدہ نمونہ۔

وفات اور ادبی مقام

اردو کا یہ درویش صفت شاعر 6 جنوری 1966ء کو دہلی میں وفات پا گیا۔ تلوک چند محرومؔ نے اردو زبان کو جو وسعت اور سادگی عطا کی، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ وہ جگن ناتھ آزادؔ جیسے عظیم محقق اور شاعر کے والد بھی تھے، اور ان کا پورا خاندان اردو ادب کی خدمت کے لیے وقف رہا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد