ایک ایسی دنیا میں قدم رکھیں جہاں معروف پاکستانی اردو ناول نگار رفاقت حیات بے باکی سے مضافاتی زندگی اور محبت اور سماجی پابندیوں کی پیچیدگیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
خدائے سخن میر تقی میر کی غزل کے باردیف کلیات کا پہلا حصہ، پیپر بیک اور ہارڈ کور کی صورت میں۔
خدائے سخن میر تقی میر کی غزل کے باردیف کلیات کا دوسرا حصہ، پیپر بیک اور ہارڈ کور کی صورت میں۔
1958 میں چھپی مجید امجد کی پہلی کتاب بعینہٖ اسی صورت میں ہر جگہ دستیاب
علامہ محمد اقبال کا تمام اردو کلام ایک خوبصورت کتاب کی صورت میں
جلیل مانک پوری، اصل نام حافظ جلیل حسن: 1866ء کو مانکپور (اودھ) میں پیدا ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔ علوم متداولہ کا درس لکھنؤ میں علمائے فرنگی محل سے لیا۔ عربی اور فارسی کے ماہر تھے۔ شاعری کا آغاز مانکپور سے ہوا۔ امیر مینائی کے شاگرد اور جانشین ہوئے جو اس وقت والیِ رامپور کے استاد تھے۔ امیر نے جلیل کو رام پور بلایا۔ جہاں وہ دفتر امیر اللغات کے سکریٹری ہو گئے۔ داغ کے انتقال کے بعد جلیل نے دربار دکن میں داغ کی جگہ لی۔ وہ میر محبوب علی خاں اور میر عثمان علی خاں (والیانِ دکن) کے استاد رہے۔ دربار دکن سے فصاحت جنگ کا خطاب پایا۔ 1946 میں یہیں وفات پائی۔
جلیل اپنے زمانے کے مسلم الثبوت استاد تھے۔ فن کے مسائل پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ان کے کلام سے زبان کے محاورات اور روزمرہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ جلیل کے تین دیوان تاج سخن، سخن اور روحِ سخن ہیں۔ دیگر تصانیف میں تذکیر و تانیث اور روح سخن، گلِ صد برگ، معیار اردو، معراج سخن، سرتاج سخن، سوانح حضرت امیر مینائی، مجموعہ قصائد اور مکاتیب جلیل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔