ثروت حسین: جدید اردو غزل کا رومانوی جادوگر اور خوابوں کا شاعر
اردو ادب کے معاصر منظر نامے پر ثروت حسین ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی مختصر زندگی میں غزل کو ایک نیا اور اچھوتا اسلوب عطا کیا۔ ان کی شاعری روایتی عشق و عاشقی سے ہٹ کر ایک ایسی کائناتی محبت اور حیرت کا بیان ہے جو قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ ان کے ہاں لفظوں کی تراش خراش اور استعاروں کا استعمال اس قدر فطری ہے کہ وہ دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
ثروت حسین 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی اور اردو ادبیات میں ایم اے کیا۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی حساسیت اور تنہائی پسندی موجود تھی، جس نے آگے چل کر ان کے شعری مزاج کی تشکیل کی۔
پیشہ ورانہ زندگی اور تدریس
انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا اور سندھ کے مختلف کالجوں میں بطور لکچرر خدمات انجام دیں۔ تدریس کے دوران وہ اپنے طالب علموں میں بے حد مقبول تھے کیونکہ ان کا اندازِ گفتگو اور شخصیت نہایت پرکشش اور والہانہ تھی۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جو کتاب سے زیادہ زندگی اور فن کے اسرار سکھانے پر یقین رکھتے تھے۔
ادبی خدمات اور شعری خصوصیات
ثروت حسین کی شاعری جدید غزل کے ارتقاء میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- حیرت کا عنصر: ان کی شاعری میں بچوں جیسی معصومیت اور کائنات کو پہلی بار دیکھنے والی حیرت کا احساس ملتا ہے۔
- نئے استعارے: انہوں نے پرندوں، بادلوں، مٹی اور خوابوں کو نئے معنی دیے۔ ان کے ہاں "شہزادی" اور "خواب" محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔
- جمالیاتی رچاؤ: ان کی غزلوں میں حسن کی ایک ایسی خوشبو ہے جو قاری کے حواس کو معطر کر دیتی ہے۔ وہ دکھ کو بھی نہایت خوبصورتی اور وقار کے ساتھ بیان کرنے کے ماہر تھے۔
شعری مجموعے
ثروت حسین کی زندگی میں ان کا صرف ایک مجموعہ شائع ہو سکا تھا، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کا تمام کلام جمع کر کے شائع کرایا:
- آدھے چاند کی رات: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔
- خاکدان: ان کی نظموں اور غزلوں کا دوسرا اہم مجموعہ۔
- کلیاتِ ثروت حسین: ان کی تمام شعری تخلیقات کا مجموعہ جو جدید شاعری کے طالب علموں کے لیے ایک درسی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
المیہ وفات اور ادبی مقام
ثروت حسین کی زندگی کا اختتام نہایت المناک صورت میں ہوا۔ وہ 9 ستمبر 1996ء کو ایک ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی ناگہانی موت نے اردو ادب کو ایک ایسے فنکار سے محروم کر دیا جو ابھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج پر تھا۔ ثروت حسین نے غزل کو جو تازگی اور نیا پن دیا، وہ انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔