مولانا حسرت موہانیؔ: رئیس المتغزلین اور آزادی کے بے باک مجاہد
اردو شاعری اور تحریکِ آزادی کے افق پر مولانا حسرت موہانیؔ (اصل نام: سید فضل الحسن) ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نزاکت کو سیاسی انقلاب کے جوش کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ وہ ایثار اور استقامت کا وہ کوہِ گراں تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں تو مسکرا کر برداشت کر لیں مگر اپنے اصولوں پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔
پیدائش اور تعلیمی سفر
حسرت موہانیؔ 1878ء میں یوپی کے قصبے موہان (ضلع اناؤ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید اظہر حسین نے ان کی بہترین تربیت کی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1903ء میں بی اے کیا۔ انہوں نے عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم محمد امیر خان سے حاصل کی، جس نے ان کے علمی اور ادبی ذوق کو جلا بخشی۔
سیاسی جدوجہد اور قید و بند
مولانا حسرت موہانیؔ سودیشی تحریک کے پرجوش حامی تھے اور انہوں نے تمام عمر ولایتی اشیاء کا بائیکاٹ کیا۔ وہ پہلے کانگریس سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں شامل رہے۔ ان کی سیاسی بے باکی کی وجہ سے برطانوی حکومت نے انہیں بارہا جیل بھیجا۔ 1907ء میں اپنے رسالے میں ایک مضمون کی اشاعت پر انہیں سخت مشقت کی سزا سنائی گئی، مگر انہوں نے جیل میں بھی چکی پیستے ہوئے اپنی مشقِ سخن جاری رکھی۔
صحافت اور ادبی خدمات
تعلیم سے فارغ ہوتے ہی انہوں نے علی گڑھ سے مشہور رسالہ 'اردوئے معلیٰ' جاری کیا، جس نے اردو ادب اور سیاست کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے قدیم شعراء کے کلام کو جمع کیا اور اس کا انتخاب شائع کر کے اردو کی شعری روایت کو نئی زندگی دی۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے سیاسی و سماجی شعور سے جوڑ دیا۔ اسی فنی کمال کی بنا پر انہیں 'رئیس المتغزلین' کا لقب دیا گیا۔
مذہبی لگاؤ اور درویشی
سیاسی اور ادبی مصروفیات کے باوجود مولانا حسرت موہانیؔ ایک سچے عاشقِ رسول اور زاہد انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں 13 حج ادا کیے۔ پہلا حج 1933ء میں اور آخری حج 1950ء میں کیا۔ وہ سفرِ حج کے دوران ایران، عراق اور مصر کے علمی مراکز سے بھی فیضیاب ہوئے۔ ان کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی اور وہ ہمیشہ عوامی سواریوں میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ عظیم شاعر اور مجاہدِ آزادی 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پا گیا۔ مولانا حسرت موہانیؔ نے اردو غزل کو جو نئی زندگی دی اور آزادی کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ تاریخِ ادب کا ایک سنہرا باب ہے۔ ان کی خودداری اور عشقِ وطن کی داستان آج بھی ہر محبِ وطن کے لیے مشعلِ راہ ہے۔