حفیظ جالندھریؔ: خالقِ قومی ترانہ اور اردو ادب کے 'فردوسیِ اسلام'
اردو ادب کے افق پر حفیظ جالندھریؔ (اصل نام: محمد حفیظ) ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی شہرت پاکستان کے قومی ترانے کی تخلیق سے وابستہ ہے۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر، افسانہ نگار اور گیت نگار تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں غنائیت، روانی اور قومی شکوہ کو یکجا کر دیا۔ ان کی تخلیقات نے نہ صرف عوامی مقبولیت حاصل کی بلکہ انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بھی عطا کیا۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
حفیظ جالندھریؔ 14 جنوری 1900ء کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کسی باقاعدہ تعلیمی ادارے سے بڑی اسناد حاصل نہیں کی تھیں، لیکن مطالعے کے شوق اور ذاتی محنت سے انہوں نے اس کمی کو پورا کیا۔ انہیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی، جس نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور زبان و بیان پر ان کی گرفت کو مضبوط کیا۔
قومی ترانہ اور شاہنامۂ اسلام
حفیظ جالندھریؔ کی ادبی زندگی کے دو سب سے بڑے کارنامے انہیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں:
- پاکستان کا قومی ترانہ: انہوں نے احمد جی چھاگلہ کی دھن پر یہ خوبصورت ترانہ تخلیق کیا جسے حکومتِ پاکستان نے 4 اگست 1954ء کو سرکاری طور پر منظور کیا۔ یہ ترانہ ان کی حبِ وطنی اور فنی مہارت کا شاہکار ہے۔
- شاہنامۂ اسلام: یہ چار جلدوں پر مشتمل ایک طویل منظوم تاریخ ہے جس میں انہوں نے اسلامی روایات اور شاندار ماضی کو شعری قالب میں ڈھالا۔ اس عظیم کام کی بدولت انہیں 'فردوسیِ اسلام' کا خطاب دیا گیا۔
گیت نگاری اور غنائیت
حفیظ کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی موسیقی اور غنائیت ہے۔ وہ خود بھی بہترین ترنم کے مالک تھے، اس لیے ان کے الفاظ نگینوں کی طرح جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی نظم 'ابھی تو میں جوان ہوں' نے ملکہ پکھراج کی آواز میں عالمی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی گیت بھی لکھے اور گیت نگاری کو نئے اور جدید پیکر عطا کیے۔
غزل گوئی اور نثری خدمات
اگرچہ وہ نظم اور گیت کے لیے مشہور ہیں، مگر حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ ان کی غزلوں میں روایت سے بغاوت اور جدیدیت کا رنگ ملتا ہے۔ انہوں نے نہایت سلیس زبان استعمال کی اور گرد و پیش کے واقعات کو غزل کا موضوع بنایا۔ شاعری کے علاوہ انہوں نے افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کی اور ان کا مجموعہ 'ہفت پیکر' ان کی نثری صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
تصانیف اور مجموعے
ان کا شعری سرمایہ نہایت ضخیم ہے، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
- نغمہ بار، تلخابۂ شیریں، سوز و ساز: ان کے مشہور شعری مجموعے۔
- چراغِ سحر اور تصویرِ کشمیر: ان کے فکری رچاؤ کی ترجمان کتابیں۔
- چیونٹی نامہ: اپنے موضوع پر ایک منفرد اور اچھوتی کتاب۔
- بچوں کی نظمیں اور بہار کے پھول: نئی نسل کے لیے ان کی تخلیقات۔
اعزازات اور وفات
حفیظ جالندھریؔ پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال اور صدرِ پاکستان کے چیف ایڈوائزر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ 21 دسمبر 1982ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے لفظوں کو زندگی دی اور قوم کو ایک ابدی ترانہ عطا کیا۔