حفیظ ہوشیارپوری

حفیظ ہوشیارپوریؔ: کلاسیکی غزل کا پاسدار اور فنِ تاریخ گوئی کا ماہر

اردو شاعری کے افق پر حفیظ ہوشیارپوریؔ (اصل نام: عبدالحفیظ سلیم) ایک ایسی علمی اور ادبی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج اور غزل کی آبیاری کے لیے وقف کر دی۔ وہ ایک صاحبِ طرز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب منتظم بھی تھے، جنہوں نے ریڈیو پاکستان کے ذریعے ادبی و ثقافتی اقدار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

پیدائش اور تعلیمی پس منظر

حفیظ ہوشیارپوریؔ 5 جنوری 1912ء کو دیوان پور (ضلع جھنگ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم ہوشیار پور میں حاصل کی، جہاں سے ان کی علمی بنیادیں استوار ہوئیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور 1933ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد 1936ء میں فلسفہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ فلسفے کے مطالعے نے ان کی سوچ میں وہ گہرائی اور ٹھہراؤ پیدا کیا جو ان کی شاعری کا خاصہ بن گیا۔

ادبی وابستگی اور اساتذہ

شاعری کا شوق انہیں بچپن ہی سے تھا، مگر ان کے مذاقِ سخن کو نکھارنے میں مولانا غلام قادر گرامی کی صحبت کا بڑا ہاتھ رہا۔ ان کے فیضانِ صحبت نے حفیظ کو زبان و بیان کے اسرار و رموز سے واقف کرایا۔ حفیظ ہوشیارپوریؔ ایک ایسے شفیق استاد ثابت ہوئے کہ جدید اردو غزل کے نامور شاعر ناصر کاظمیؔ نے ان ہی کی شاگردی کا فخر حاصل کیا اور ان سے فنی تربیت پائی۔

پیشہ ورانہ زندگی اور خدمات

ان کی عملی زندگی علمی اور انتظامی خدمات سے بھرپور رہی۔ انہوں نے کچھ عرصہ میاں بشیر احمد صاحب کے ساتھ انجمن ترقیِ اردو کے سیکرٹری کے طور پر کام کیا۔ بعد ازاں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے اور تقسیمِ ہند کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ وہ لاہور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر اور ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے اور ریڈیو کو ادبی مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

شعری اسلوب اور فنِ تاریخ گوئی

حفیظ ہوشیارپوریؔ نے اگرچہ نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی، مگر ان کا اصل میدان غزل ہی رہا۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • روایتی غزل کا حسن: ان کی غزلوں میں کلاسیکی شعراء کی جھلک ملتی ہے مگر ان کا انداز جدید دور کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے۔
  • زبان و بیان پر گرفت: فلسفہ کا طالب علم ہونے کے ناطے ان کے کلام میں منطقی ربط اور الفاظ کا انتخاب نہایت متوازن ہوتا تھا۔
  • تاریخ گوئی: انہیں تاریخ گوئی کے فن میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ کسی بھی اہم واقعے یا وفات کی تاریخ مادۂ تاریخ نکال کر نہایت مہارت سے بیان کرنے پر قادر تھے۔

وفات اور ادبی مقام

اردو ادب کا یہ درویش صفت شاعر اور منتظم 10 جنوری 1973ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ ان کی وفات سے اردو غزل ایک ایسے ہمدرد اور عالم سے محروم ہو گئی جس نے پوری زندگی لفظ کی حرمت اور روایت کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ ان کا شعری مجموعہ 'مقامِ غزل' ان کی فنی عظمت کا روشن ثبوت ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد