رسا چغتائیؔ: جدید اردو غزل کا ایک معتبر اور شگفتہ لہجہ
اردو شاعری کے منظر نامے پر رسا چغتائیؔ (اصل نام: مرزا محتشم علی بیگ) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے غزل کو نئی زندگی عطا کی۔ وہ ایک گوشہ نشین فنکار تھے، مگر ان کے کلام کی خوشبو نے پورے ادبی حلقے کو معطر رکھا۔ ان کی شاعری میں زندگی کی تلخیوں، انسانی تعلقات اور ہجرت کے کرب کا ایک نہایت لطیف اور جمالیاتی اظہار ملتا ہے۔
پیدائش اور ہجرت
رسا چغتائیؔ 1928ء میں ریاست جے پور کے ضلع سوائی مادھوپور (راجستھان، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تربیت اسی تہذیبی ماحول میں ہوئی جہاں زبان و ادب کی قدیم روایات ابھی زندہ تھیں۔ تقسیمِ ہند کے چند برس بعد، یعنی 1951ء میں وہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ کراچی کی ادبی فضا نے ان کے فن کو مزید جلا بخشی اور وہ بہت جلد شہر کے معتبر شعراء کی فہرست میں شامل ہو گئے۔
ادبی سفر اور فنی اسلوب
رسا چغتائیؔ کی اصل شناخت ان کی غزل گوئی ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- سادگی و پرکاری: وہ نہایت سادہ اور عام فہم الفاظ کا انتخاب کرتے تھے، مگر ان الفاظ کو اس طرح ترتیب دیتے تھے کہ وہ گہرے معانی کے حامل ہو جاتے تھے۔
- نئے استعارے: انہوں نے غزل کے روایتی مضامین کو نئے اور اچھوتے استعاروں کے ذریعے بیان کیا۔ ان کے ہاں شہری زندگی کے بدلتے ہوئے رویوں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
- موسیقیت: ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا داخلی آہنگ اور موسیقی پائی جاتی ہے جو ان کے مخصوص شعری شعور کی ترجمان ہے۔
تصانیف اور مجموعے
رسا چغتائیؔ نے نہایت کم لکھا، مگر جو لکھا وہ معیار کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ ان کے کلام کے درج ذیل مجموعے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں:
- زنجیر: ان کا پہلا شعری مجموعہ جس نے انہیں جدید غزل کے صفِ اول کے شعراء میں لاکھڑا کیا۔
- تیرے آنے کا انتظار رہا: ان کا دوسرا مجموعہ جو ان کی فنی پختگی اور جذباتی گہرائی کا آئینہ دار ہے۔
- ہمسائیگی: ان کا ایک اور اہم شعری انتخاب جو ان کے مخصوص رومانوی اور سماجی لہجے کی ترجمانی کرتا ہے۔
وفات اور ادبی مقام
اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 5 جنوری 2018ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ ان کی وفات سے اردو ادب ایک ایسے فنکار سے محروم ہو گیا جس نے کبھی شہرت کی تمنا نہیں کی بلکہ اپنی تمام تر توجہ صرف فن کی بلندی پر مرکوز رکھی۔ رسا چغتائیؔ کی شاعری آج بھی نئی نسل کے شعراء کے لیے ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کا مخصوص لب و لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔