سید ضمیر جعفری: اردو مزاح کا درخشندہ ستارہ اور ہمہ جہت تخلیق کار
اردو ادب کے افق پر سید ضمیر جعفری (اصل نام: سید ضمیر حسین شاہ) ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن کی تحریریں قاری کے لبوں پر مسکراہٹ اور دل میں سوچ کے دیئے روشن کرتی ہیں۔ وہ بیک وقت ایک باوقار فوجی افسر، نڈر صحافی اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی شخصیت میں موجود خودداری، درویشی اور حبِ وطنی کا عکس ان کے کلام میں صاف نظر آتا ہے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1916ء کو ضلع جہلم کے گائوں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور صوفیانہ گھرانے سے تھا۔ ان کے پرنانا سلطان العارفین حضرت پیر سید محمد شاہ پوٹھوہار کے مقبول صوفی اور پنجابی کے یگانہ روزگار شاعر تھے، جنہوں نے 'پیر دی ہیر' جیسی معرکتہ الآراء تصنیف چھوڑی۔ اسی خاندانی نجابت نے ضمیر جعفری کے شعری ذوق کی آبیاری بچپن ہی سے کر دی تھی۔
تعلیمی سفر اور ادبی آغاز
انہوں نے ابتدائی تعلیم گائوں کے ٹاٹ مدرسہ میں حاصل کرنے کے بعد جہلم، اٹک اور لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ اسلامیہ کالج لاہور سے 1938ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کی ادبی صلاحیتوں کے چرچے تھے، اور انہوں نے ایک شعری مقابلے میں جسٹس سر شیخ عبدالقادر کے ہاتھوں پہلا ادبی اعزاز حاصل کیا۔
فوجی خدمات اور رفاقتیں
ضمیر جعفری صاحب نے دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی ہند فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہیں فیض احمد فیض، ن م راشد، کرنل مجید ملک اور کمانڈر عسکری جیسے نامور ادیبوں اور شعراء کی رفاقت میں کام کرنے کا موقع ملا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے کشمیر کی جنگِ آزادی میں بھی حصہ لیا۔ وہ فوج سے دو مرتبہ وابستہ رہے اور میجر کے عہدے تک پہنچے۔
صحافتی اور انتظامی خدمات
صحافت ان کے وجود کا جزو تھی۔ انہوں نے روزنامہ 'احسان'، 'شیرازہ'، 'غالب' اور اپنے روزنامہ 'بادِ شمال' کے ذریعے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ 1966ء میں فوج سے سبکدوشی کے بعد وہ سی ڈی اے اسلام آباد کے پہلے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ بنے۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل سینٹر، اکادمی ادبیات پاکستان اور مختلف ادبی جرائد جیسے 'ادبیات' اور 'چہار سو' سے بھی وابستہ رہے۔
شعری و نثری شاہکار
اگرچہ وہ مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے، لیکن انہوں نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے ملی نغمے آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا لوک گیت 'میرا لونگ گواچہ' عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:
- مافی الضمیر اور کارزار: ان کے شعری مجموعے جو ان کے فکری رچاؤ کے گواہ ہیں۔
- اُڑتے خاکے اور ضمیریات: ان کی نثری بصیرت اور مزاح نگاری کے شاہکار۔
- آگ، اکتارا، کتبے اور نشاطِ تماشا: ان کی ادبی وسعت کی ترجمان کتابیں۔
اعزازات اور بذلہ سنجی
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ قائد اعظم اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ وہ اپنی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی کے لیے بھی مشہور تھے۔ حفیظ جالندھری اور جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ان کی محفلوں کے قصے آج بھی ادبی حلقوں میں ذوق و شوق سے سنائے جاتے ہیں۔
وفات اور آخری آرام گاہ
اردو کا یہ مایہ ناز سپوت 16 مئی 1999ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں کھنیارہ شریف میں ان کے نانا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ ضمیر جعفری صاحب کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسے فنکار کے طور پر زندہ رہے گا جس نے زندگی کو بھرپور طریقے سے جیا اور اسے لفظوں کے ذریعے امر کر دیا۔