سید محمد جعفری: طنز و مزاح کے امام اور سماجی شعور کے نقیب
اردو ادب کی تاریخ میں سید محمد جعفری ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی ظرافت اور کاٹ دار طنز سے اردو مزاحیہ شاعری کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے سیاسی، سماجی اور تہذیبی تضادات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور نہایت لطیف پیرائے میں معاشرے کی اصلاح کی کوشش کی۔
پیدائش اور علمی پس منظر
سید محمد جعفری 27 دسمبر 1905ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نہایت علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید محمد علی جعفری خود ایک صاحبِ علم شخصیت تھے۔ محمد جعفری نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں فائن آرٹس میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کی علمی تربیت میں ان کے اساتذہ اور گھر کے علمی ماحول کا بڑا ہاتھ تھا، جس نے انہیں ایک پختہ ذہن عطا کیا۔
پیشہ ورانہ زندگی اور فنونِ لطیفہ
ان کی عملی زندگی سرکاری خدمات سے عبارت رہی۔ وہ وزارتِ اطلاعات و نشریات میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں تھے بلکہ مصوری اور دیگر فنونِ لطیفہ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی فنی حسیت ان کی شاعری میں بھی نمایاں ہے، جہاں وہ الفاظ کے ذریعے جیتی جاگتی تصویریں بنانے کے ماہر نظر آتے ہیں۔
ادبی خدمات اور شعری اسلوب
سید محمد جعفری کی اصل پہچان ان کی طنز و مزاح پر مبنی شاعری ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- شائستہ مزاح: ان کے ہاں مزاح کبھی بھی ابتذال یا سوقیانہ پن کا شکار نہیں ہوا۔ وہ نہایت شائستہ اور علمی پیرائے میں اپنی بات کہتے تھے۔
- سیاسی و سماجی طنز: انہوں نے اپنے دور کے سیاسی حالات، بیوروکریسی کی خامیاں اور سماجی منافقت کو اپنی شاعری کا ہدف بنایا۔ ان کی نظمیں 'ایگزیکٹو انجینئر' اور 'کلرک' اس حوالے سے بہت مشہور ہوئیں۔
- پیراڈی نگاری: وہ کلاسیکی شعراء کے کلام کی پیروڈی کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ وہ غالبؔ، اقبالؔ اور دیگر اساتذہ کے اشعار کو اس طرح نئے سیاق و سباق میں ڈھالتے تھے کہ قاری زیرِ لب مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
تصانیف اور مجموعے
ان کی زندگی میں ان کا کلام زیادہ تر رسائل و جرائد کی زینت بنتا رہا۔ ان کی وفات کے بعد ان کا مجموعہ کلام 'شوخیِ تحریر' کے نام سے شائع ہوا، جو اردو مزاحیہ ادب کا ایک گراں قدر سرمایہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس مجموعے میں ان کی فکری پختگی اور طنز کی گہرائی صاف نظر آتی ہے۔
وفات اور ادبی مقام
اردو کا یہ مایہ ناز مزاح نگار 7 جنوری 1976ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ سید محمد جعفری نے طنز و مزاح کو جو علمی بنیادیں فراہم کیں، وہ آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے معاشرے کو ہنستے ہنستے اس کا اصل چہرہ دکھایا اور اردو ادب میں اپنا ایک لازوال مقام بنایا۔