دوستی تو اداس کرتی نہیں

احمد فراز


کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
دوستی تو اداس کرتی نہیں
ہم ہمیشہ کے سیر چشم سہی
تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں
شبِ ہجراں بھی روزِ بد کی طرح
کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں
شعر بھی آیتوں سے کیا کم ہیں
ہم پہ مانا وحی اترتی نہیں
اس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہمیں سے حساب کرتی نہیں
یہ محبت ہے ، سن! زمانے سن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں
جس طرح تم گزرتے ہو فراز
زندگی اس طرح گزرتی نہیں
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست