ہمارے جسم اوراقِ خزانی ہو گئے ہیں
اور ردائے زخم سے آراستہ ہیں
ہماری خوش نمائی پر کوئی حرف
اور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیا
ہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیں
اور چہرے رتجگوں کی شعلگی سے
جس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کو
سمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہے
یا خودکشی کی خواہشیں تھیں
ہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیا
خندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیں
ہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھے
اور ان کی یاد کے مانوس قاصد
اور ان کی چاہتوں کے ہجر نامے
دور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیں
جب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئی
جوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہے
سرِ شاخ نہالِ غم چہکتا ہے
کوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھ
ہماری خوش نمائی حرفِ حق کی رونمائی ہے
عشاق کی یادوں میں رہتے ہیں
کہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیں
شاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہے
اور گلابوں کی طرح شاداں چہرے
چاہت اور عقیدت کی بیاضوں پر
جب مقتلوں کی سمت جاتے ہیں
ابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہ
اپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پر
ابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پر