آنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہے

کیف بھوپالی


اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہے
آنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہے
کچھ بیتے دنوں کی یادیں ہیں اور چاروں طرف تنہائی سی
مہماں ہیں کہ آئے جاتے ہیں محفل ہے کہ اجڑی جاتی ہے
تدبیر کے ہاتھوں کچھ نہ ہوا تقدیر کی مشکل ہل نہ ہوئی
ناخن ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں گتھی ہے کہ الجھی جاتی ہے
کیا کوئی محبت میں یوں بھی بے نام و نشاں ہو جاتا ہے
میں ہوں کہ ابھی تک زندہ ہوں دنیا ہے کہ بھولی جاتی ہے
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف
فہرست