رئیس فروغؔ

(1982 - 1926)

حالاتِ زندگی

رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ

اردو غزل کے معاصر منظر نامے پر رئیس فروغ کا نام ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر ابھرا جس نے جدید حسیت کو کلاسیکی شگفتگی کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری میں عہدِ حاضر کا دکھ، تنہائی اور سماجی جبر کا ذکر بڑے سلیقے اور فنکارانہ ضبط کے ساتھ ملتا ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

رئیس فروغ 1926ء (تقریباً) میں مراد آباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمد عزیز تھا۔ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا، جس نے ان کے فنی ذوق کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔

ادبی سفر اور ریڈیو پاکستان سے وابستگی

رئیس فروغ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ریڈیو پاکستان (کراچی) سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے بطور اسکرپٹ رائٹر اور پروڈیوسر خدمات انجام دیں۔ ریڈیو سے وابستگی نے انہیں زبان و بیان کی نزاکتوں اور صوتی آہنگ کو سمجھنے میں بہت مدد دی۔ وہ خاموش طبع اور گوشہ نشین انسان تھے، اسی لیے انہوں نے کبھی سستی شہرت کی تمنا نہیں کی۔

شعری خصوصیات اور اسلوب

رئیس فروغ کی غزل جدید اردو غزل کے ارتقاء میں ایک اہم کڑی ہے:

  • منفرد لہجہ: ان کے ہاں چیخ و پکار کے بجائے ایک دھیما پن ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
  • شہری زندگی کے دکھ: ان کی شاعری میں جدید شہری زندگی کی مشینی مصروفیت، اجنبیت اور جذباتی بے حسی کا اظہار بڑی شدت سے ملتا ہے۔
  • استعاراتی نظام: انہوں نے پرانے استعاروں کو نئے معنی دیے اور غزل کی علامت نگاری کو وسعت بخشی۔

شعری مجموعہ

ان کا شعری مجموعہ "رات بہت ہوا چلی" ان کے فنی کمال کا دستاویزی ثبوت ہے۔ اس مجموعے نے شائع ہوتے ہی ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا اور آج بھی اسے جدید غزل کے اہم مآخذ میں شمار کیا جاتا ہے۔

وفات اور ادبی مقام

اردو غزل کا یہ درویش صفت شاعر 5 اگست 1982ء کو کراچی میں وفات پا گیا۔ رئیس فروغ نے کم کہا مگر جو کہا وہ معیار کی بلندیوں کو چھوتا ہے۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)