دیکھنا ہے تو کسی خواب سے کم کیا دیکھیں

رئیس فروغؔ


آنکھ جو ہم کو دکھاتی ہے وہ ہم کیا دیکھیں
دیکھنا ہے تو کسی خواب سے کم کیا دیکھیں