ہم نے تجھ کو لاکھ پکارا تو لیکن خاموش رہا
آخر ساری دنیا سے ہم تیرے بہانے روٹھ گئے
اسیرو کچھ نہ ہو گا شور و شر سے
لپٹ کر سو رہو زنجیرِ در سے
بھٹک رہا ہے جہاں قافلہ بگولوں کا
کبھی ہجوم تھا ان راستوں میں پھولوں کا
اس کی صورت بھی دھیان سے اتری
گھر میں اس شعلہ رو کے آتے ہی
رین اندھیری ہے اور کنارا دور
چاند نکلے تو پار اتر جائیں
یوں پریشاں ہوئیں تری یادیں
جیسے اوراقِ گل بکھر جائیں
پر سوختہ پتنگے شمعیں بجھی بجھی سی
دل سوز ہیں مناظر بزمِ سحر گہی کے
گھر لٹا کر وطن میں جی نہ لگا
پھر کسی انجمن میں جی نہ لگا
کوئی جھونکا جو سرِ شام آیا
میں یہ سمجھا ترا پیغام آیا
دور رہ کر بھی وہی کام آیا
دن کا چراغ نکلا گل ہو گئے ستارے
دنیا کے شور و غل میں دل اب کسے پکارے
اے دل نہ تڑپ کہ قہر ہو گا
عالمِ خواب میں دکھائے گئے
کب کے ساتھی کہاں ملائے گئے
کیسی گردش میں اب کے سال پڑا
تجھ سے مل کر بھی دل کو چین نہیں
نہ پھول جھڑتے ہیں ہم پر نہ برق گرتی ہے
پڑے ہوئے ہیں بعنوان سبزہ بے کار
اب دل میں کیا رہا ہے تری یاد ہو تو ہو
یہ گھر اسی چراغ سے آباد ہو تو ہو
اولیں شبِ گلشن کس قدر سہانی تھی
اجنبی مہک پا کر ہم نکل پڑے گھر سے
ملنے والے بچھڑ بچھڑ کے ملے
روئے ہم موسمِ بہار کے بعد
اب کی پت جھڑ میں کتنے پھول کھلے
اس میں کچھ طرزِ ادا میری ہے
پھول میرے ہیں صبا میری ہے
نہ پوچھو کس خرابے میں پڑے ہیں
تہ ابرِ رواں پیاسے کھڑے ہیں
ذرا گھر سے نکل کر دیکھ ناصر
چمن میں کس قدر پتے جھڑے ہیں
ویراں پڑا ہے میکدہ حسنِ خیال کا
یہ دور ہے بہائے ہنر کے زوال کا
ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کو ہر محفلِ سخن میں
ہر دور کی غزل میں میرا نشاں ملے گا