رات ہو گئی ہے ۔ چاروں طرف سے جنگل دھڑ دھڑ جلتا ہے ۔ اک عجب بھگدڑ مچی ہے ۔
کچھ لوگ، احمد، شیشہ گر : (کنچ گھر کا انجینئر عمر تقریباً 50 سال)
ارے پکڑو اسے ! جانے نہ پائے
2 بڑا اندھیر ہے میرے یارو
بستے گاؤں کی بیٹی کاڈ کے لے گیا حسنی!
3 منے اپنی انکھ تے دیکھا، وا حسنی تھا
(احمد آگ کے شعلے دیکھ کر ہجوم میں شامل ہو جاتا ہے )
احمد : آگ کس نے لگائی تھی بھائی!
آوازیں : 1 یو قصہ تو بڑا ٹھاڑا ہے !
(کچھ لوگ حسنی کا گھوڑا گھیر کر اسے ہجوم میں لاتے ہیں ۔)
1 ---- یارو! اس کی ہڈی پسلی توڑ کے رکھ دو۔
2 ---- اس کے سر ماں مارو دوگاڑا!
احمد : خبردار! کیوں مارتے ہو؟
گرفتار کر لو، پولیس کے حوالے کرو
اپنے ہاتھوں میں قانون لینا حماقت ہے
1 ---- بڑا حمیتی آیا اس کا!
احمد : مگر پہلے تحقیق کر لو
عدالت کھلی ہے ، عدالت کا در کھٹکھٹاؤ!
1 ---- پیچھے ہٹ جا! اپنی بوتھی پرے نوں کرلے !
شیشہ گر : بھلا یہ بھی کوئی شرافت ہے
اسے اپنے ہاتھ سے مت مارو!
بلھا : یو میرا مجرم ہے یارو!
(بلھا، حسنی کو خون بھری آنکھوں سے دیکھ کر بولتا ہے )
تو اگر اشراف ہے تو آ کر اتر میدان ماں
تو پہلے اپنا وار کر پھر روک میرے وار کو
میں یوں نہ چھوڑوں گا تجھے !
حسنی : میں نردوش ہوں بلھے بیرا میرے حال سے جانچ
سانچ کے آگے جھوٹ نہ ٹھہرے نئیں ہے سانچ کو آنچ
سید ایسا نئیں ہے بلھے تو کیا جانے اس کی ساکھ
جس کے سنگ جلی تری بھینا وہ بھی ہوئے گیا راکھ
تیرے میت ہیں سینکڑوں، پنج تن میرے ساتھ
تیرے پاس گنڈاسیاں میں ہوں خالی ہاتھ
دھومن شاہ کی سوں ہے بلھے میرا نئیں قصور
میں لڑنا نہیں چاہوتا مجھے نہ کر مجبور
1 بیر کاڈن لاگے تنے سر م نہ آئی!
راج کوِ ی اب آ جا بچ مدان ماں!
بلھا : میں تجھے زندہ نہ جانے دوں گا حسنی!
حسنی : میرا پیر علی ؓ مولا ہے ہو رانگڑ کے چھور
آ جا بیچ مدان ماں دیکھوں تیرا جور