بارھواں منظر


نویں شہر میں اکبر، مونا اور احمد دو پہیوں کی گاڑی میں پھول گلی سے کنچ گھر کی طرف جا رہے ہیں ۔ گاڑی کو دو سفید گھوڑے کھینچ رہے ہیں ۔ گرمیوں کی دوپہر ہے ۔ ایک عورت بھیرویں گا رہی ہے ۔ اس کی آواز دور سے آ رہی ہے ۔
کردار
ایک عورت، مونا ( عمر 22 سال)
اکبر، احمد
گاڑی کی آواز :
رک شک رک شک
رک شک رک شک
رک شک رک شک
عورت کے گانے کی آواز : کنچن روپ دکھائے
سرگم سا (سارے گاما سا)
جل میں آگ لگائے
چھم چھم ناچے کھڑی دوپہری
دھوپ کی تانیں گہری گہری
سرگم سا
جل میں آگ لگائے
سر کی چھایا سر سے آگے
سر کے پیچھے سرتی بھاگے
سرگم سا
سر کی تھاہ نہ پائے
کنچن روپ دکھائے
سرگم سا
جل میں آگ لگائے
مونا : گاڑی والے گاڑی روکو
احمد بھیا نیچے اترو!
احمد : یہ کس کا جنازہ ہے اکبر؟
اکبر : ہمارے مفتی گزر گئے ہیں
یہ آخری شمع رہ گئی تھی!
فہرست