نیا سفر

ناصر کاظمی


اندھیروں کی نگری سے پھوٹی کرن
مہکنے لگا خاک دان کہن
اٹھا محملِ وقت کا سارباں
نئی منزلوں کو چلے کارواں
سریلی ہواؤں نے چھیڑا وہ راگ
لگی اوس سے خیمہِ گل میں آگ
صبا گل کی نس نس میں بسنے لگی
اجالوں کی برکھا برسنے لگی
نئے پھول نکلے نئے روپ میں
زمیں جھم جھمانے لگی دھوپ میں
ترنجِ فلک کی ضیا پھیل کر
زرِ گل بچھانے لگی خاک پر
فضا جگمگائی گلِ سنگ سے
ہوا پھر گئی گردشِ رنگ سے
پہاڑوں سے لاوا نکلنے لگا
جگر پتھروں کا پگھلنے لگا
چمن در چمن وہ رمق اب کہاں
وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں
کراں تا کراں ظلمتیں چھا گئیں
وہ جلوے طبق در طبق اب کہاں
بجھی آتشِ گل اندھیرا ہوا
وہ اجلے سنہرے ورق اب کہاں
سریلی ہواؤں میں رس گھول کر
طیور اڑ گئے بولیاں بول کر
زمیں بٹ گئی، آسماں بٹ گیا
چمن بٹ گیا، آشیاں بٹ گیا
نکلنے لگا آبشاروں سے دود
ہوا قلزمِ ماہ جل کر کبود
پہاڑوں میں میداں میں جنگل میں آگ
سمندر میں خشکی میں جل تھل میں آگ
گرجنے لگیں آگ کی بدلیاں
جھلسنے لگیں پیاس سے کھیتیاں
وہ آندھی چلی دور آلام کی
کہ رکنے لگی نبض ایام کی
اٹھے یوں نجیبانِ انجم سپاہ
گرا ہار کر تاش کا بادشاہ
رہِ جستجو مختصر ہو گئی
ہمالہ کی چوٹی بھی سر ہو گئی
پرانی بہاریں قفس میں گئیں
وہ انساں گئے اور وہ رسمیں گئیں
نئی گردشوں میں گھرا آسماں
زمینِ کہن پر گرا آسماں
’’ہوا ایک جنگل میں آ کر گزر
کسو کو نہیں یاں کسو کی خبر‘‘
ہوا نوحہ گر دشتِ شب کا نقیب
صدا اس کی پرہول، صورت عجیب
یہ وحشی جہاں محوِ فریاد ہو
وہاں کوئی بستی نہ آباد ہو
جہاں گھر بنائے یہ خانہ خراب
وہاں کے مکینوں کو آئے نہ خواب
سرِ شام بستی میں رونے لگے
مگر دن نکلتے ہی سونے لگے
پرانی حویلی کی دیوار پر
کرے ہاؤ ہو ہاؤ ہو رات بھر
پھڑکتا رہا اور روتا رہا
بھرے شہر کی نیند کھوتا رہا
کسی منچلے نے جو دیکھا ادھر
اڑایا اسے کنکری مار کر
اٹھی اک صدا بام کے متصل
جسے سن کے پھٹ جائے پتھر کا دل
لیے چونچ میں کنکری اڑ گیا
گھنے جنگلوں کی طرف مڑ گیا
بلندی سے آخر گرایا اسے
کسی آبجو میں بہایا اسے
نہ پھر شہر کی سمت آیا کبھی
وہ نوحہ نہ اس نے سنایا کبھی
ادھر فکر سے جان گھلنے لگی
خیالوں کی کھڑکی سی کھلنے لگی
نظر آیا ملکِ سخن کنکری
غزل کنکری اور بھجن کنکری
گھلی کنکری اور پانی ہوئی
پئے گوشِ عبرت کہانی ہوئی
پلٹ کر جو دیکھا سماں اور تھا
کہ پردے میں فتنہ نہاں اور تھا
نیا شور لے کر جمودی اٹھے
سخن ور گئے اور نمودی اٹھے
چٹخنے لگے یوں زباں پر سخن
جلے جیسے سوکھے درختوں کا بن
’’نہ بلبل غزل خواں نہ طیروں کا شور
سبھی دیکھتے میر کے منہ کی اور‘‘
نہاں رازِ مطلوب و طالب رہا
ہر آواز پر میر غالب رہا
بجھے یوں اجالوں میں تیرہ ضمیر
پریشاں ہو جیسے دھوئیں کی لکیر
نہ چشمِ بصیرت نہ ذوقِ ہنر
ہوئیں ساری اقدار زیر و زبر
رہ و رسمِ اجداد سے کٹ گئے
ہم اپنی روایات سے کٹ گئے
یہاں میر و غالب کا فن کیا کرے
سخن ساز عرضِ سخن کیا کرے
اجڑتا رہا بوستانِ ادب
مگر پھول کھلتے رہے زیرِ لب
تصور کی تیغِ دو دم چوم کر
چھپے کنج میں ہم، قلم چوم کر
مجھے شورِ چرخ و زمیں لے گیا
تصور کہیں سے کہیں لے گیا
بدلنے لگی آسمانوں کی لے
نیا چاند اترا سر برگِ نے
زمیں اجنبی آسماں اجنبی
سفر اجنبی کارواں اجنبی
خنک نیلے نیلے بحیرے کہیں
بحیروں کے اندر جزیرے کہیں
خنک پانیوں پر سفینے رواں
سفینوں پہ اڑتے ہوئے بادباں
شرابور رستے ، معطر فضا
شجر خوب صورت، ثمر خوش نما
سنیلے مکاں اور سجیلے مکیں
مکیں جن کی چھب دل ربا دل نشیں
کہیں بدلیاں گیت گاتی ہوئیں
کہیں بارشیں گنگناتی ہوئیں
کسی مدھ بھری صبح کی آس میں
شتر مرغ دبکے ہوئے گھاس میں
کہیں پیچ در پیچ بیلوں کے جال
کہیں گھاٹیوں میں رمیدہ غزال
فضا در فضا پھول سی تتلیاں
پروں پر اٹھائے ہوئے گلستاں
کہیں منزلوں کے دھواں دھار گھیر
کہیں سونے سنسان رستوں کے پھیر
کہیں گردِ مہتاب اڑتی ہوئی
نشیبوں میں بل کھا کے اڑتی ہوئی
ہوا تازہ رس پھول چنتی ہوئی
زمیں ان سنے راگ بنتی ہوئی
ستارے گئے ظلمتوں کو لیے
چٹخنے لگے شاخچوں پر دیے
کھلا جنت صبح کا در کھلا
بہ آواز اللہ اکبر کھلا
مہکنے لگیں دھان کی کھیتیاں
کہ ابرِ بہاری برس کر کھلا
چلے مدتوں کے رکے راہ رو
کوئی پا برہنہ، کوئی سر کھلا
جنہیں پانیوں میں اترنا پڑے
وہ ہاتھوں میں رکھتے ہیں خنجر کھلا
لرزنے لگی تنگنائے سخن
کہ شاہین معنٰی کا شہپر کھلا
نئی رت نے چھیڑا نیا ارغنوں
فضا میں جھلکتا ہے لمحوں کا خوں
ہوئے نغمہ زن طائرانِ چمن
کہ عرصے میں اترے ہیں اہلِ سخن
وہ درویشِ گلگوں قبا آ گئے
وہ رندانِ خونیں نوا آ گئے
نئے دن کا سورج دمکنے لگا
زمیں کا ستارہ چمکنے لگا
(جولائی ۔ ۵۴)
 
فہرست