یہ سفر ہے میلوں کا

ناصر کاظمی


دیس سبز جھیلوں کا
یہ سفر ہے میلوں کا
راہ میں جزیروں کی
سلسلہ ہے ٹیلوں کا
کشتیوں کی لاشوں پر
جمگھٹا ہے چیلوں کا
رنگ اڑتا جاتا ہے
شہر کی فصیلوں کا
دیکھ کر چلو ناصر
دشت ہے یہ فیلوں کا
فاعِلن مفاعیلن
ہزج مربع اشتر
فہرست