یہ آئنہ تری خاطر سنبھال کر رکھا
جو دل دکھا بھی تو ہونٹوں نے پھول برسائے
خوشی کو ہم نے شریکِ ملال کر رکھا
ہم سبو گھر سے نکلتے ہی نہیں اب ناصر
میکدہ رات گئے اب بھی کھلا ہوتا ہے
ترے بغیر بھی خالی نہیں مری راتیں
ہے ایک سایہ مرے ساتھ ہمنشیں کی طرح
قصے تری نظر نے سنائے نہ پھر کبھی
ہم نے بھی دل کے داغ دکھائے نہ پھر کبھی
اے یادِ دوست آج تو جی بھر کے دل دکھا
شاید یہ رات ہجر کی آئے نہ پھر کبھی
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج ترے ملنے سے
یہ الگ بات کہ وہ بات نہ تھی پہلی سی
آپ کو میں نے بلایا تو نہ تھا
میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں
تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ
پھیلتی جاتی ہے ناصر رنجِ ہستی کی ردا
اور سمٹتے جا رہے ہیں پاؤں پھیلانے کو ہم
تمام عمر یونہی ہم نے دکھ اٹھایا ہے
زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے
چار گھڑی یاروں کا میلہ، پھر خاموشی
پہروں تنہا بیٹھ کے رونا پھر خاموشی
اس سے تو ہم سوئے ہی رہتے صبح نہ ہوتی
نیند اڑا کر اڑ گئی چڑیا، پھر خاموشی
ہوا بھی چل رہی ہے اور جاگتی ہے رات بھی
کوئی اگر کہے تو ہم سنائیں دل کی بات بھی
میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
وہ آئنے میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا
یوں تو اے ہم سخنو بات نہیں کہنے کی
بات رہ جائے گی یہ رات نہیں رہنے کی
نالہ آخرِ شب کس کو سناؤں ناصر
نیند پیاری ہے مرے دور کے فن کاروں کو