ہر ایک شکل کو دل سے نکال کر رکھا


یہ آئنہ تری خاطر سنبھال کر رکھا
جو دل دکھا بھی تو ہونٹوں نے پھول برسائے
خوشی کو ہم نے شریکِ ملال کر رکھا
……
ہم سبو گھر سے نکلتے ہی نہیں اب ناصر
میکدہ رات گئے اب بھی کھلا ہوتا ہے
………
۶ اگست ۱۹۶۶
اہلِ خرد کے ماضی و حال
چند کتابیں چند خیال
دکھ کی دھوپ میں یاد آئے
تیرے ٹھنڈے ٹھنڈے بال
………
ترے بغیر بھی خالی نہیں مری راتیں
ہے ایک سایہ مرے ساتھ ہمنشیں کی طرح
………
قصے تری نظر نے سنائے نہ پھر کبھی
ہم نے بھی دل کے داغ دکھائے نہ پھر کبھی
اے یادِ دوست آج تو جی بھر کے دل دکھا
شاید یہ رات ہجر کی آئے نہ پھر کبھی
……
چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی
یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی
رنج کچھ کم تو ہوا آج ترے ملنے سے
یہ الگ بات کہ وہ بات نہ تھی پہلی سی
۱۳ اپریل ۱۹۶۴
………
آپ کیوں رک گئے چلتے چلتے
آپ کو میں نے بلایا تو نہ تھا
۱۸ اپریل ۱۹۷۱
………
میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں
تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ
۱۹۶۴
………
چین سے بیٹھنے نہیں دیتی
موسم یاد کی اداس ہوا
………
پھیلتی جاتی ہے ناصر رنجِ ہستی کی ردا
اور سمٹتے جا رہے ہیں پاؤں پھیلانے کو ہم
……
تمام عمر یونہی ہم نے دکھ اٹھایا ہے
زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے
……
چار گھڑی یاروں کا میلہ، پھر خاموشی
پہروں تنہا بیٹھ کے رونا پھر خاموشی
اس سے تو ہم سوئے ہی رہتے صبح نہ ہوتی
نیند اڑا کر اڑ گئی چڑیا، پھر خاموشی
۱۹۶۳
………
ہوا بھی چل رہی ہے اور جاگتی ہے رات بھی
کوئی اگر کہے تو ہم سنائیں دل کی بات بھی
۱۹۶۷
………
میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
وہ آئنے میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا
۲۱ جون ۱۹۶۷
………
یوں تو اے ہم سخنو بات نہیں کہنے کی
بات رہ جائے گی یہ رات نہیں رہنے کی
۱ فروری ۱۹۶۷
………
نالہ آخرِ شب کس کو سناؤں ناصر
نیند پیاری ہے مرے دور کے فن کاروں کو
۱۹۵۵
………
کہیں کہیں کوئی روشنی ہے
جو آتے جاتے سے پوچھتی ہے
کہاں ہے وہ اجنبی مسافر
کہاں گیا وہ اداس شاعر
۳۰ دسمبر ۱۹۷۱
فہرست