ایک کہانی

ندا فاضلی


تم نے
شاید کسی رسالے میں
کوئی افسانہ پڑھ لیا ہو گا
کھو گئی ہو گی روپ کی رانی
عشق نے زہر کھا لیا ہو گا
تم اکیلی کھڑی ہوئی ہو گی
سر سے آنچل ڈھلک رہا ہو گا
یا پڑوسن کے پھول سے رخ پر
کوئی دھبا چمک رہا ہو گا
کام میں ہوں گے سارے گھر والے
ریڈیو گنگنا رہا ہو گا
تم پہ نشہ سا چھا گیا ہو گا
مجھ کو وشواش ہے کہ اب تم بھی
شام کو کھڑکی کھول دینے پر
اپنی لڑکی کو ٹوکتی ہو گی
گیت گانے سے روکتی ہو گی
 
فہرست