اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں میں

ماجد صدیقی


اپنے اندر الجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں میں
اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں میں
کس پر تنگ ہوئی یوں دنیا کس نے حشر یہ دیکھا ہے
جب بھی سانس نیا لیتا ہوں زہر نیا اک چکھوں میں
یہ بھی عجب کیفیت غم ہے اپنے آپ میں گم ہو کر
سرتا پا دل بن جاتا ہوں پہروں بیٹھا دھڑکوں میں
چہرے پر اک دھول جمی ہے برس برس کا رنگ لیے
دل بے چارہ آس بندھائے ساتھ گلوں کے مہکوں میں
کون غنی ہے جس کے در کے دونوں پٹ ہوں کھلے ہوئے
کس دہلیز کو منزل مانوں کس آنگن میں ٹھہروں میں
کوئی تو شاید اپنی خبر کو بھی اے ماجدؔ آ پہنچے
ایک نظر باہر بھی دیکھوں در تو اپنا کھولوں میں
فہرست