آنکھ کا سرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی

ماجد صدیقی


ان دنوں اس خاک پر بارش تھی جیسے نور کی
آنکھ کا سرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی
چکھ سکے اس سے نہ کچھ ہم پر نشہ دیتی رہی
ہاں نظر کی شاخ پر اک بیل تھی انگور کی
حسن کے مدِ مقابل عشق!! اور بے چارگی؟
دل میں ہے تصویر جیسے محفل بے نور کی
ابر مانگا تھا کہ آندھی لے اڑی برگ و ثمر!
خوب اے موجِ ہوا! کلفت ہماری دور کی
شاخ ہی سوکھی تو پھر جھڑنے سے کیا انکار تھا
کیا کہیں آخر یہ صورت کس طرح منظور کی
اب جراحت ہی سے ممکن ہے مداوا درد کا
اور ہی صورت ہے محرومی کے اس ناسور کی
کھولنے پائے نہ اس پر ہم لب اظہار تک
یوں حقیقت کھل گئی ماجدؔ دلِ رنجور کی
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست