میرے کہے پہ آپ بھروسا نہ کیجیے

ماجد صدیقی


چہرے کو دیکھیے، مری آنکھوں میں جھان کیے
میرے کہے پہ آپ بھروسا نہ کیجیے
کھلتے ہوئے گلوں کی مہک تھی، مری نظر
پھر کیا ہوا مجھے، یہ مجھی سے نہ پوچھیے
اچھا نہ ہو گا میں بھی اگر لب کشا ہوا
میری زباں سے زنگ نہ چپ کا اتاریے
ماجدؔ در بہار پہ پہنچے تو ہو مگر
اپنی جبیں سے آپ پسینہ بھی پونچھیے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست