سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا

ماجد صدیقی


حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اس تدبیر کا
سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا
کس کا یہ سندیس آنکھوں میں مری لہرا گیا
صفحۂ بادِ صبا پر عکس ہے تحریر کا
سنگِ راہ کا توڑنا بھی تھا سر اپنا پھوڑنا
ہاں اثر دیکھا تو یوں اس تیشۂ تدبیر کا
ہم نے بھی اس شخص کو پایا تو تھا اپنے قریب
پر اثر دیکھا نہیں کچھ خواب کی تعبیر کا
ہم تلک پہنچی ہے جو ماجدؔ یہی میراث تھی
فکر غالبؔ کی اور اندازِ تکلم میرؔ کا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست