گزر رہی ہے جو ساعت اسے امام کریں

ماجد صدیقی


حصول منزل ایقاں کا اہتمام کریں
گزر رہی ہے جو ساعت اسے امام کریں
ہمیں وہ لوگ، کہ ہم جنس جن سے کترائیں
ہمیں وہ لوگ، کہ یزداں سے بھی کلام کریں
ملی فلک سے تو جو آبرو، ملی اس کو
ہمیں بھی چاہیے انساں کا احترام کریں
ہوا نہ کوہ الم جن سے آج تک تسخیر
ہزار موسم مہتاب کو غلام کریں
ہر ایک شخص جو بپھرا ہوا ملے ہے یہاں
حدود ارض میں اس کو تو پہلے رام کریں
گرفت میں ہیں جو ماجدؔ انہی پہ بس کیجے
نہ آپ اڑتے پرندوں کو زیرِ دام کریں
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست