ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں

ماجد صدیقی


کھول کوئی در لطف کا اپنے، ان آنکھوں میں رنگ بھروں
ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں
لازم ہے اک دور طرب کے بعد مجھے تو بھول بھی جا
میں اک بار تجھے پھر چاہوں عہد نیا آغاز کروں
چاروں اور رہی اک ظلمت جو سوچا سو دیکھا ہے
چاند کبھی تو ابھرے گا یہ آس لگا کر بھی دیکھوں
اے کہ تلاشِ بہار میں تو بھی غرق ہے، برگِ آوارہ
کاش مجھے بھی پر لگ جائیں میں بھی تیرے ساتھ اڑوں
شہر میں ہر اک شخص تھا جیسے ایک یہی تلقین لیے
میں شبنم کو پتھر جانوں میں پھولوں کو خار کہوں
گلشن میں یہ کنج سخن بھی اجڑا بن کہلاتا ہے
میں جس پھلواری سے ماجدؔ پہروں بیٹھا پھول چنوں
فہرست