پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے

ماجد صدیقی


کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے
اپنی جانب لپکتے قدم دیکھ کر
مسکراتے ہیں گل شاخ پر سامنے
یاد میں تھیں صبا کی سی اٹکھیلیاں
جانے کیا کچھ رہا رات بھر سامنے
زندگی ہے کہ آلام کی گرد سے
ہانپتی ہے کوئی راہگزر سامنے
رات تھی جیسے جنگل کا تنہا سفر
چونک اٹھے جو دیکھی سحر سامنے
آئنے ہیں مقابل جدھر دیکھیے
اپنی صورت ہے با چشم ترا سامنے
ہم ہیں ماجدؔ سلگتے دیے رات کے
بجھ گئے بھی تو ہو گی سحر سامنے
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست