اپنے اندر کے اس شخص کو دیکھتا

ماجد صدیقی


کاش! میں جس کے اوپر ہوں اک خوں سا
اپنے اندر کے اس شخص کو دیکھتا
پاگلوں کی طرح وہ تجھے چاہنا
تھا مری سوچ کا وہ بھی اک زاویہ
مرغ تھا زد پہ تیرِ قضا کی مگر
آشیاں تھا کھلے بازوؤں دیکھتا
ساغر مئے پیے، ساتھ خوشبو لیے
در بدر ٹھوکریں کھا رہی تھی ہوا
وہ تو وہ اس کے ہونے کا احساس بھی
تھا مہک ہی مہک، رنگ ہی رنگ تھا
چاند نکلا ہے ڈوبے گا کچھ دیر میں
چاہیے بھی ہمیں اس سمے اور کیا
کیسے بخشے گا آئین گلشن ہمیں
ہم نے مسلا اسے، دل کہ اک پھول تھا
عمر بھر ہم بھی خوشیوں کے منکر رہے
شکر ہے یہ بھی اک مرحلہ طے ہوا
کیوں ہمیں چھو کے ماجدؔ گزرنے لگی
آگ میں کیوں جھلسنے لگی ہے صبا
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست