دبنے والی نہیں مری آواز

ماجد صدیقی


کیا ہے مدھم اگر پڑی آواز
دبنے والی نہیں مری آواز
تیری نظریں کہ آبشار گرے
میرا دامن کہ گونجتی آواز
یوں ہوا ہے کہ ذکر سے تیرے
تیرے پیکر میں ڈھل گئی آواز
ہائے کس جذبۂ جواں سے ہے
نکھری نکھری دھلی دھلی آواز
کوئی غنچہ چٹک رہا ہو گا
تھی توانا بھری بھری آواز
نامرادی کا کیا گلہ ماجدؔ
ہم نے اٹھنے ہی جب نہ دی آواز
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست