کب یہ امید بھی بر آئے گی

ماجد صدیقی


کب صبا تیرا پتہ لائے گی
کب یہ امید بھی بر آئے گی
صبح کی خیر مناؤ لوگو
شب کوئی دم ہے گزر جائے گی
ایسے منظر ہیں پسِ پردہ حسن
آنکھ دیکھے گی تو شرمائے گی
دل کو پت جھڑ کی حکایت نہ سناؤ
یہ کلی تاب نہیں لائے گی
میں بھی ہوں منزل شب کا راہی
رات بھی سوئے سحر جائے گی
پیار خوشبو ہے چھپائے نہ بنے
بات نکلی تو بکھر جائے گی
دل سے باغی ہے تمنا ماجدؔ
ہو کے اب شہر بدر جائے گی
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن
فہرست