جلوہ ترا برنگِ دگر دیکھتا رہوں

ماجد صدیقی


گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
جلوہ ترا برنگِ دگر دیکھتا رہوں
دل کے دیے سے اٹھتی رہیں یاد کی لویں
تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں
پل پل برنگ برق ترا سامنا رہے
رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں
پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل
دن رات تیری راہگزر دیکھتا رہوں
ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کسے
اس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا رہوں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست