جانے میں کیوں گلستاں سے بیزار تھا

ماجد صدیقی


گل بہ گل حسن، میرا طلب گار تھا
جانے میں کیوں گلستاں سے بیزار تھا
سامنے اس کے خاموش تھے اس طرح
ہر خطا کا ہمیں جیسے اقرار تھا
زندگی جب نثار غمِ دہر تھی
اس کا ملنا بھی ایسے میں بے کار تھا
منہ سے کہنا اگرچہ نہ آیا اسے
بور تھا مجھ سے وہ سخت بیزار تھا
زندگی ہم سے ماجدؔ گریزاں تو تھی
جرم اپنا بھی کچھ اس میں سرکار تھا
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست