کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمنا میں کروں

ماجد صدیقی


ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں
کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمنا میں کروں
اپنی ان محرومیوں میں کچھ مرا بھی ہاتھ ہے
میں نہ چاہوں تو بھلا اس طرح رسوا کیو ں پھروں
تلخ و شیریں جو بھی ہے چکھنا تو ہے مجھ کو ضرور
جو بھی کچھ آئے سو آئے کیوں نہ ہاتھوں ہاتھ لوں
ہوں مقید وقت کا جس سمت چاہے لے چلے
دوپہر بھی ہوں تو میں کیوں شام بننے سے ڈروں
شش جہت بکھری ہے ماجدؔ میری چاہت کی مہک
میں اگر جانوں تو اپنے عہد کا گلزار ہوں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست